تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 6
یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ﴿6﴾
- يٰٓاَيُّهَااے
- الْاِنْسَانُانسان
- اِنَّكَبیشک تو
- كَادِحٌتکلیف اٹھانے والا
- اِلٰىطرف
- رَبِّكَاپنا رب
- كَدْحًاخوب تکلیف
- فَمُلٰقِيْهِپھر اس کو ملنا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے خداوند ہی کی طرف جا رہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
دنیا کے فریب خواروں کو تنبیہ:
خطاب باعتبار الفاظ اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر انہی مغروروں کی طرف ہے جو اپنے عیش دنیا میں مگن اور آخرت سے بالکل نچنت تھے۔ فرمایا کہ اے انسان تو بھی کشاں کشاں جا اپنے رب ہی کی طرف رہا ہے اور بالآخر اسی کے حضور تیری پیشی ہونی ہے؛ تجھے اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔
دنیا کے پرستار اپنی دنیوی کامیابیوں کے نشہ میں اپنی اصل منزل ہمیشہ بھولے رہتے ہیں۔ انھیں کامیابیوں کے بعد کامیابیاں اور فتوحات کے بعد جو فتوحات حاصل ہوتی ہیں ان میں وہ اس طرح کھو جاتے ہیں کہ ان سے باہر ہو کر وہ کسی چیز پر غور ہی نہیں کر سکتے۔ ایک کے بعد دوسری، دوسری کے بعد تیسری کامیابی کے حصول کی بھاگ دوڑ میں انھیں کبھی اس سوال پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی کہ ان کی اصلی منزل ہے کیا؟ وہ اسی دنیا کی کسی کامیابی کو اپنی آخری منزل سمجھتے ہیں حالانکہ آخری منزل آخرت ہے جس کی طرف سب، خدا کے قانون کی زنجیر میں بندھے، نہایت بے بسی کے ساتھ، کشاں کشاں چلے جا رہے ہیں۔ اگر ان کی نظرزندگی کے اس پہلو پر بھی ہوتی تو وہ جادۂ مستقیم سے منحرف نہ ہوتے بلکہ کھلی آنکھوں سے دیکھتے کہ جتنی تیز روی کے ساتھ وہ اپنی مرغوبات دنیا کی راہ میں بڑھ رہے ہیں اس سے زیادہ تیزی کے ساتھ ان کی زندگی محاسبۂ اعمال کے لیے خدا کی طرف بڑھ رہی ہے۔
ہر انسان کشاں کشاں خدا کی طرف جا رہا ہے: ’إِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘۔ ’کَدْحٌ‘ کے معنی کسی کام میں پوری مشقت کے ساتھ کوشش کرنے کے ہیں۔ یہ نہایت بلیغ تعبیر ہے اس حقیقت کی کہ انسان جس دن سے وجود میں آتا ہے اسی دن سے اس کا سفر خدا کی ٹھہرائی ہوئی منزل یعنی موت کی راہ میں شروع ہو جاتا ہے اور یہ سفر بلا کسی توقف کے جاری رہتا ہے۔ موسم سخت ہو یا نرم، آدمی مریض ہو یا صحت مند، حالات مساعد ہوں یا نامساعد، کسی حال میں بھی یہ منقطع نہیں ہوتا۔ ولادت سے لے کر موت تک بچپن، مراہقہ، جوانی، ادھیڑ پن، پیری اور ناتوانی کے مختلف مراحل آتے ہیں لیکن اس میں ایک منٹ بلکہ سیکنڈ کے لیے بھی وقفہ نہیں ہوتا۔ انسان قانون قدرت کی زنجیروں میں ایسا جکڑا ہوا ہے کہ وہ اس راہ میں نہ بھی چلنا چاہے جب بھی اس کو چلنا پڑے گا اور اس بے بسی میں شاہ اور گدا، شریف اور وضیع، امیر اور مامور، نیک اور بد، سب یکساں ہیں۔
’فَمُلَاقِیْہِ‘۔ یہ اس سفر کی غایت بیان ہوئی ہے۔ فرمایا کہ انسان اس دنیا میں شتر بے مہار نہیں ہے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ سب کشاں کشاں اپنے خالق کے حضور میں پہنچیں اور اس کے آگے پیش ہوں۔ اس پیشی کا مقصد ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد سے ان کو دنیا میں پیدا کیا اس سے متعلق ان سے سوال ہو کہ وہ انھوں نے پورا کیا یا نہیں، چنانچہ آگے اس کی تفصیل آ رہی ہے۔