Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 85. Al-Burooj · Ayah 1

  1. وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِۙ﴿1﴾

    1. وَالسَّمَآءِقسم آسمان کی
    2. ذَاتِ الْبُرُوْجِبرجوں والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
قسم ہے برجوں والے آسمان
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ ’برج‘ کی تحقیق: لفظ ’برج‘ قلعوں اور گڑھیوں کے لیے آتا ہے۔ عربی زبان اور قرآن دونوں میں یہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ آسمان کی صفت کے طور پر یہ جہاں آیا ہے اس سے مراد آسمان کے وہ قلعے اور دیدبان ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے فرشتے برابر مامور رہتے ہیں کہ وہ خدا کی ملکوت میں شیاطین کو ایک خاص حد سے آگے یعنی ملاء اعلیٰ کے حدود میں داخل نہ ہونے دیں۔ اگر اس حد سے وہ آگے بڑھنے کی جسارت کرتے ہیں تو، جیسا کہ آپ مختلف سورتوں میں پڑھ چکے ہیں، ان پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی جن یا انسان ملاء اعلیٰ کے حدود میں داخل یا غیب کے اسرار کی کچھ سن گن لے سکے۔ قسم کی نوعیت: قسم یہاں، جیسا کہ جگہ جگہ وضاحت ہو چکی ہے، بطور شہادت یا اس دعوے پر بطور دلیل کھائی گئی ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اس سورہ میں مخاطب، جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں، مکہ اور طائف کے وہ فراعنہ ہیں جو نشۂ اقتدار میں کمزور مسلمانوں کو مظالم کا ہدف بنائے ہوئے تھے اور اپنے قلعوں اور ایوانوں پر ان کو اتنا ناز تھا کہ ان کو کبھی خیال بھی نہ ہوتا تھا کہ جس خدائے علیم و قدیر پر ایمان لانے کے انتقام میں وہ اس کے کمزور بندوں پر ستم ڈھا رہے ہیں وہ کوئی کمزور ہستی نہیں ہے بلکہ وہی برجوں والے آسمان کا خالق و مالک ہے۔ وہ اپنی پیدا کی ہوئی اس دنیا سے غافل نہیں ہے بلکہ آسمانی قلعوں اور دیدبانوں سے اس کے کروبی ہر گوشہ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ جب چاہے آسمانی برجوں سے اپنی افواج قاہرہ بھیج کر یا زمین ہی سے کوئی آفت ارضی ابھار کر سارے قلعوں، گڑھیوں، ایوانوں کو مسمار اور ان پر ناز کرنے والوں کے غرور کو پامال کر کے رکھ دے۔