تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 85. Al-Burooj · Ayah 6
اِذْ هُمْ عَلَیْهَا قُعُوْدٌۙ﴿6﴾
- اِذْ هُمْجب وہ
- عَلَيْهَااس پر
- قُعُوْدٌبیٹھے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ وہ اس پر بیٹھے ہوں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اشقیاء کے انجام کی تصویر:
یہ تصویر ہے ان اشقیاء کے انجام کی۔ فرمایا کہ یہ اس وقت کو یاد رکھیں جب وہ اس خندق کے کنارے بیٹھیں گے اور جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ پہلے ان کو اس آگ بھری خندق کے کنارے پر بٹھایا جائے گا تاکہ وہ اپنا ٹھکانا دیکھ لیں اور پھر وہ اپنی ایک ایک ظالمانہ حرکت کا مزہ چکھیں گے۔ گویا لفظ ’شُہُوْدٌ‘ یہاں نتیجۂ فعل کے مفہوم میں ہے، جس کی مثالیں قرآن مجید میں بہت ہیں۔
یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مجرم کو اس کا اصل ٹھکانا اگر پہلے سے دکھا دیا جائے اور پھر اس کو اس کا مزہ چکھایا جائے تو اس کا عذاب دونا ہو جاتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ مجرموں کو پہلے جہنم کے کناروں پر بٹھایا جائے گا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ ان کو کہاں جانا ہے اور پھر ان کو اس میں پھینک دینے کا حکم دیا جائے گا۔ فرعون اور آل فرعون کے متعلق بھی قرآن میں یہ ذکر ہے کہ عالم برزخ سے ان کو صبح و شام دوزخ کی سیر کرائی جاتی ہے۔
ممکن ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ حرف ’اِذْ‘ گزرے ہوئے زمانہ کے کسی واقعہ کی یاددہانی کے لیے آتا ہے اور ہم نے مستقبل میں پیش آنے والی صورت حال کے بیان کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن اس شبہ کا ازالہ یوں ہو جاتا ہے کہ قرآن میں جو احوال قیامت کی تفصیل جابجا ماضی کے صیغوں سے کی گئی ہے جس کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ مستقبل کی تعبیر ماضی کے اسلوب میں اس کی قطعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی وضاحت جگہ جگہ ہو چکی ہے۔