تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 10
سَیَذَّكَّرُ مَنْ یَّخْشٰىۙ﴿10﴾
- سَيَذَّكَّرُجلد سمجھ جائے گا
- مَنْ يَّخْشٰىجو ڈرتا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
فائدہ اٹھالے گا وہ جس کو ڈر ہو گا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ بتایا ہے کہ کون آپ کی بات پر کان دھریں گے اور کس مزاج کے لوگ اس سے گریز کریں گے۔ فرمایا کہ جن کے دلوں میں خدا اور آخرت کا کچھ خوف ہو گا وہ آپ کی بات سنیں گے اور جن کے دل اس خوف سے خالی ہیں ان پر آپ کا انذار بے اثر ہی رہے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کی دعوت سے بدک رہے ہیں ان کے بدکنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس دعوت میں یا اس کے داعی میں کوئی خرابی ہے بلکہ ان بدکنے والوں کے دلوں میں ہی خرابی ہے۔ وہ اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں۔ آخرت کا کوئی اندیشہ ان کے اندر سرے سے ہے ہی نہیں۔ ایسے محروم القسمت لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ اس بڑی آگ میں پڑیں گے جو ان کے لیے تیار ہے۔ پھر اس میں نہ یہ مریں گے نہ جئیں گے بلکہ اس کے ابدی عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ اس میں وہ موت کی تمنا کریں گے لیکن وہ بھی ان کی پرسان حال نہیں ہو گی۔
یہاں اس سنت الٰہی کو ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی وضاحت اس کتاب میں بار بار ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت کے اندر جو نور ودیعت فرمایا ہے جو لوگ اس کو باقی رکھتے ہیں ان کو پیغمبرؐ کی دعوت اپنے دل کی آواز معلوم ہوتی ہے۔ اگر یہ نور کچھ ضعیف بھی ہو چکا ہوتا ہے جب بھی دیر سویر پیغمبر کے جھنجھوڑنے سے وہ جاگ پڑتے ہیں لیکن جن کے اندر یہ نور بالکل بجھ چکا ہوتا ہے وہ مردوں کے حکم میں ہیں، ان کو صور اسرافیل کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں جگا سکتی۔
مذکورہ آیات میں جو مضمون بیان ہوا ہے وہ بعد والی سورہ۔۔۔ الغاشیۃ۔۔۔ میں جو اس کی مثنیٰ ہے، زیادہ وضاحت سے آیا ہے۔ فرمایا ہے:
فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۵ لَّسْتَ عَلَیْْہِمۡ بِمُصَیْْطِرٍ ۵ إِلَّا مَنۡ تَوَلَٰی وَکَفَرَ ۵ فَیُعَذِّبُہُ اللہُ الْعَذَابَ الْأَکْبَرَ ۵ إِنَّ إِلَیْْنَا إِیَابَہُمْ ۵ ثُمَّ إِنَّ عَلَیْْنَا حِسَابَہُمْ (الغاشیہ ۸۸: ۲۱-۲۶)
’’تو یاددہانی کرو، تم تو بس ایک یاددہانی کر دینے والے ہو۔ تم ان پر کوئی داروغہ تو نہیں ہو (جو ایمان لائے گا وہ فلاح پائے گا) رہے جو پیٹھ پھیریں گے اور کفر کریں گے تو اللہ ان کو عذاب دے گا بڑا عذاب۔ ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے۔ پھر ہمارے ہی اوپر ان کا حساب لینا ہے۔‘‘
یہ بات یاد رکھیے کہ یہاں ’اَلْعَذَابَ الْأَکْبَرَ‘ آیا ہے اور آیت زیربحث میں ’اَلنَّارَ الْکُبْرٰی‘ ہے۔ یہ ایک ہی بات دونوں توام سورتوں میں ذرا مختلف الفاظ میں فرمائی گئی ہے۔ اس کی وضاحت، ان شاء اللہ، اگلی سورہ میں آئے گی۔