Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 18

  1. اِنَّ هٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰىۙ﴿18﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. هٰذَاوہ (یہ)
    3. لَفِيمیں
    4. الصُّحُفِصحیفے
    5. الْاُوْلٰىپہلے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہی تعلیم اگلے صحیفوں میں بھی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قرآن کی تعلیم تمام نبیوں کی تعلیم ہے: یعنی پیغمبر ﷺ جو کچھ تمہیں بتا رہے ہیں یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے۔ تمام اگلے نبیوں اور رسولوں نے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اور وہاں آدمی کا اپنا ہی عمل کام آئے گا، کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ سورۂ نجم میں یہی حقیقت یوں بیان فرمائی ہے: أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسٰی ۵ وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَٰٓی ۵ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی (النجم ۵۳: ۳۶-۳۸) ’’کیا اس کو اس تعلیم کی خبر نہیں ملی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے اور ابراہیم کے جس نے ہر بات پوری کر دکھائی کہ کوئی جان بھی کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے دوسرے متعدد نبیوں کے صحیفے اسفار تورات کی شکل میں موجود ہیں۔ ان میں اگرچہ بہت سی تحریفیں واقع ہو چکی ہیں اور ان کی حیثیت تاریخ کی کتابوں سے زیادہ نہیں ہے تاہم ان سب میں توحید اور قیامت کی تعلیم نہایت واضح اور مؤثر الفاظ میں اتنی کثرت سے موجود ہے کہ جس صحیفہ کو بھی پڑھیے ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنی ذریت کو جو تعلیم دی اگرچہ وہ صحیفہ کی شکل میں نہیں تھی بلکہ زبانی تعلیم و تلقین کی صورت میں تھی، لیکن ان کی ذریت کی ایک شاخ یعنی بنی اسرائیل نے اس کو اپنے صحیفوں میں بشکل تحریر بھی محفوظ کیا اور ان کے انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے دور میں برابر اس کی یاددہانی بھی کرتے رہے جس کی ناقابل تردید شہادت آج بھی ان کے صحیفوں میں موجود ہے اور قرآن نے بھی جا بجا اس کا حوالہ دیا ہے۔ آپ کی ذریت کی دوسری شاخ۔۔۔ بنی اسمٰعیل۔۔۔ نے اس کو تحریری شکل میں محفوظ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ تحریر و کتابت سے ناآشنا امّی تھے۔ انھوں نے روایات کی صورت میں اس کو کچھ مدت تک باقی رکھا لیکن امتداد زمانہ سے اس پر رفتہ رفتہ ذہول کا پردہ پڑ گیا اور بدعات کے غلبہ نے اس کو بالکل ہی نسیاً منسیا کر دیا۔ البتہ نبی امّی ﷺ کی بعثت سے اس کی نہ صرف ازسرنو تجدید ہوئی بلکہ اس کی تکمیل بھی ہوئی اور وہی اس دین کامل کی اساس قرار پائی جو اب قیامت تک کے لیے اللہ کا حقیقی دین ہے۔