Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 6

  1. سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤىۙ﴿6﴾

    1. سَنُقْرِئُكَہم جلد پڑھائیں گے آپ کو
    2. فَلَاپھر نہ
    3. تَنْسٰٓىبھولیں گے آپ
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم تمہیں پڑھائیں گے تو تم نہیں بھولو گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حقیقت جو پیغمبر کو سمجھائی گئی:یہ وہ اصل مدعا ہے جو آنحضرت ﷺ کو سمجھانے کے لیے اوپر کی تمہید بیان ہوئی ہے یعنی قدرت کا جو قانون تدریج و ترتیب انسان کے خلق اور اس کی تکمیل میں، قوتوں اور صلاحیتوں کو مقدر کرنے اور ان کو بروئے کار لانے میں، سبزے کو اگانے اور اس کو پروان چڑھانے میں کار فرما ہے اسی قانون کے تحت اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھی معاملہ کرے گا۔ اس نے تمہیں جس منصب پر سرفراز فرمایا ہے اور جس وحی آسمانی سے نوازا ہے اس کے مرحلے بالتدریج طے ہوں گے اور جلد وہ وقت آئے گا کہ تم دیکھو گے کہ جس راہ پر تمہیں چلنے کا حکم دیا گیا اس کے تمام عقبات طے ہو گئے اور آخری منزل آ گئی۔ وحی الٰہی کے باب میں آنحضرتؐ کو ایک خاص ہدایت: ’سَنُقْرِئُکَ فَلَا تَنْسٰی‘۔ یہ آیت بالکل اسی محل میں آئی ہے جس میں سورۂ طٰہٰ کی آیت ۱۱۴: ’لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰٓی اِلَیْکَ وَحْیُہٗ‘ (تم قرآن کے لیے اپنی طرف اس کی وحی پوری کیے جانے سے پہلے جلدی نہ کرو۔) یا سورۂ قیامہ کی آیت ۱۶: ’لَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ‘ (تم جلدی کے خیال سے قرآن کے پڑھنے پر اپنی زبان نہ چلاؤ۔) آئی ہیں۔ ہم ان آیات کے تحت نہایت تفصیل سے واضح کر چکے ہیں کہ دعوت کے اس دور میں نبی ﷺ کو جن مخالفتوں اور مزاحمتوں سے سابقہ تھا ان میں آپ کے لیے واحد سہارا وہ آسمانی کمک ہی تھی جو وحی الٰہی کی صورت میں آپ پر نازل ہوئی۔ اسی سے آپ کو قوت و عزیمت کا زاد راہ ملتا، اسی سے آگے کے لیے رہنمائی حاصل ہوتی، اسی میں مخالفین کے اعتراضات و مطالبات کے جواب ہوتے۔ ان گوناگون وجوہ سے آپ کو ہر وقت وحی کا انتظار رہتا اور جب وہ نازل ہوتی تو اس کے اخذ کرنے میں آپ قدرتاً اس بے قراری اور اضطراب و عجلت کا اظہار کرتے جو ایک بھوکا بچہ اس وقت کرتا ہے جب ماں اس کو چھاتی سے لگاتی ہے۔ فرط شوق میں آپ چاہتے کہ پوری وحی ایک ہی سانس میں آپ کے سینہ میں اتر جائے اور چونکہ یہ خالق کائنات کی ایک عظیم امانت بھی تھی جو آپ کی تحویل میں دی جا رہی تھی اس وجہ سے آپ اس کا حرف حرف اپنی زبان مبارک سے دہراتے بھی کہ مبادا کوئی لفظ حافظہ کی گرفت سے باہر رہ جائے۔ آپؐ کے اس اضطراب و شوق اور اس عجلت و بے قراری پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اس وحی کے لیے تم جلد بازی نہ کرو۔ اس کے اترنے کے لیے جو پروگرام ہم نے مقرر کیا ہے اسی کے مطابق یہ اترے گی اور اسی میں حکمت و مصلحت ہے۔ ساتھ ہی یہ تسلی بھی دے دی کہ اس کی حفاظت کے لیے بھی تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ خود اس کی حفاظت کا ایسا سامان کرے گا کہ تم اس میں سے ایک حرف بھی نہیں بھولو گے۔ سورۂ قیامہ میں یہی بات یوں فرمائی ہے: لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ ط اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ ج فَاِذَا قَرَاْنَہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ ج ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ ہ (القیٰمۃ ۷۵: ۱۶-۱۹) (تم عجلت کے خیال سے اس پر زبان نہ چلاؤ۔ ہمارے ذمہ ہے اس کو جمع کرنا اور اس کو پڑھ کر سنانا تو جب ہم اس کو پڑھ کے سنا دیں تو اس سنائے کی پیروی کرو۔ پھر ہمارے ہی ذمہ ہے اس کی وضاحت)۔