Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 1

  1. وَ الْفَجْرِۙ﴿1﴾

    1. وَالْفَجْرِقسم فجر کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
شاہد ہے فجر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ہم تمہید میں اشارہ کر چکے ہیں کہ یہاں جو قسمیں کھائی گئی ہیں وہ اس دعوے پر شہادت کے لیے کھائی گئی ہیں کہ اس کائنات کا مدبر حقیقی اللہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی باگ ہے۔ وہی جب چاہتا ہے ایک چیز کو نمودار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کو اوجھل کر دیتا ہے۔ وہی جس کو جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھ سکے یا اس کے اختیار میں مداخلت کر سکے۔ فجر کی شہادت سے مقصود: ’وَالْفَجْرِ‘۔ ’فَجْرٌ‘ سے مراد وہ وقت ہے جب رات کی تاریکی کا پردہ چاک ہوتا اور دن کو روشنی مشرقی افق سے نمودار ہوتی ہے۔ روزے کے احکام کے ضمن میں سورۂ بقرہ میں فرمایا ہے: ’کُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ‘ (البقرہ ۲: ۱۸۷) (اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری شب کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جائے)۔ لفظ ’فَجْرٌ‘ کے مقابل میں لفظ ’صبح‘ سے مراد جو وقت ہے وہ نہ صرف فجر پر بلکہ طلوع آفتاب کے بعد کے وقت پر بھی محیط ہے۔ اس لیے ’وَالْفَجْرِ‘ کے ہم معنی صبح کے لفظ سے جہاں قسم کھائی گئی ہے وہاں وضاحت کے لیے الفاظ بڑھائے گئے ہیں، مثلاً ’وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ‘ (التکویر ۸۱: ۱۸) (شاہد ہے صبح جب وہ سانس لیتی ہے) یا ’وَالصُّبْحِ إِذَا اَسْفَرَ‘ (المدثر ۷۴: ۳۴) (شاہد ہے صبح جب وہ ہویدا ہو جائے)۔ یہ معین ہونے کے بعد کہ فجرسے مراد آغاز صبح کا وہ وقت ہے جب شب کی تاریکی کا پردہ چاک ہو جاتا ہے اس آیت میں قسم کا موقع ٹھیک وہی قرار پاتا ہے جو سورۂ مدثر میں بدیں الفاظ وارد ہوا ہے: ’وَاللَّیْلِ إِذْ أَدْبَرَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ ۵ إِنَّہَا لَإِحْدَی الْکُبَرِ‘ (المدثر ۷۴: ۳۳-۳۵) (شاہد ہے رات جب وہ منہ موڑ چکے اور صبح جب وہ نمودار ہو جائے کہ یہ (قیامت) عظیم حوادث میں سے ہے)۔ ہم نے سورۂ مدثر کی تفسیر میں مذکورہ آیت کے ذیل میں واضح کیا ہے کہ رات کی تاریکی جب اپنے ڈیرے ڈالے ہوتی ہے تو اس میں صبح کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ فجر کا وقت ایک بڑے تغیر کا پیغام لاتا ہے جس میں تاریکی کی بساط لپیٹ دی جاتی اور عالم ایک نیا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ ٹھیک یہی حال قیامت کے ظہور کا بھی ہو گا۔ یہ دنیا رات کے مانند ہے جس کی تاریکی صبح قیامت کو ڈھانکے ہوئے ہے۔ جس طرح رات کے بعد فجر ایک متعین نظام الاوقات کے تحت نمودار ہوتی ہے اسی طرح ایک وقت آئے گا جب قیامت اچانک وارد ہو جائے گی۔ اس وقت سب دیکھ لیں گے کہ جس چیز کو وہ ناممکن سمجھتے تھے وہ سامنے آ گئی۔ یہاں ’وَالْفَجْرِ‘ کی قسم سے قرآن نے متنبہ کیا ہے کہ فجر کا وقت ہر روز ظہور قیامت کا مشاہدہ ایک تمثیلی رنگ میں کراتا ہے، جس طرح تم رات میں سوتے اور صبح کو آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھتے ہو اسی طرح مر جانے کے بعد تمہارے اوپر وہ وقت بھی آئے گا جب صور پھونکا جائے گا اور تم صبح قیامت کو اٹھ بیٹھو گے اور ایسا فخر محسوس کرو گے کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہو۔ لہٰذا قیامت کے ظہور کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ احادیث میں صبح کو اٹھنے کی جو دعا سکھائی گئی ہے اس میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔