Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 10

  1. وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ﴿10﴾

    1. وَفِرْعَوْنَاور فرعون
    2. ذِي الْاَوْتَادِمیخوں والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور فرعون میخوں والے کے ساتھ !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اقوام بائدہ کی تباہی کے بعد یہ فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کی طرف توجہ دلائی۔ ’ذِی الْأَوْتَادِ‘ کے لفظی معنی تو میخوں والے کے ہیں لیکن یہاں ’اوتاد‘ بطریق کنایہ فرعون کی فوجوں کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ فوجیں بالعموم خیموں میں رہتی ہیں اور خیمے میخوں سے نصب کیے جاتے ہیں اس وجہ سے عربی میں یہ تعبیر معروف ہے۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر تورات میں بھی ہے اور قرآن میں بھی جگہ جگہ مثلاً۔۔۔ یونس، طٰہٰ، القصص اور الذاریات۔۔۔ میں آیا ہے۔ قدیم زمانے میں مستقل فوجیں رکھنے کا رواج نہیں تھا۔ حملہ یا دفاع کی ضرورت کے لیے قبیلوں اور خاندانوں کے نوجوان بالکل وقت کے وقت اپنی خدمات پیش کرتے اور ضرورت پوری ہو جانے کے بعد منتشر ہو جاتے لیکن فرعون نے، تورات سے معلوم ہوتا ہے، ملک کی حفاظت کے لیے مستقل فوج قائم کی جو مملکت کے مختلف حصوں میں برابر، اپنے ڈیروں خیموں کے ساتھ گشت کرتی رہتی۔ اس نے اپنے نوابوں اور امراء پر بھی یہ پابندی عائد کر رکھی تھی کہ ایک خاص تعداد میں اسلحہ، گھوڑے اور رتھ تیار رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر حکومت کی مؤثر خدمت کر سکیں۔ اسی خصوصی امتیاز کی بنا پر فرعون کو ’ذُو الْأَوْتَادِ‘ کہا گیا۔