Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 19

  1. وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ﴿19﴾

    1. وَتَاْكُلُوْنَاور تم کھاتے ہو
    2. التُّرَاثَمال میراث
    3. اَكْلًا لَّمًّاکھانا سمیٹ کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وراثت کو سمیٹ کر ہڑپ کرتے ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عرب جاہلیت میں زور آور عصبات کا کردار: ’وَتَأْکُلُوۡنَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَّمًّا‘۔ ’لَمٌّ‘ کے معنی جمع کرنے اور سمیٹنے کے ہیں اور ’تَأْکُلُوۡنَ‘ یہاں ہڑپ کر جانے کے معنی میں ہے۔ یعنی مال کی محبت میں تم اس قدر اندھے ہو گئے ہو کہ تمہارے اندر جو زور آور عصبات ہیں ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مورث کی چھوڑی ہوئی املاک و جائداد سب سمیٹ کر وہ تنہا ہڑپ کر جائیں، دوسرے کمزور وارثوں، یہاں تک کہ مورث کے یتیم بیٹوں بیٹیوں کو بھی اس میں سے حصہ نہ ملے۔ عرب جاہلیت میں بھی اگرچہ تقسیم وراثت کا ایک ضابطہ تھا لیکن جس طرح اس زمانے میں اسلام کے نہایت واضح ضابطہ کے باوجود زور و اثر رکھنے والے افراد دھاندلی سے باز نہیں آتے بلکہ کھلم کھلا کمزور وارثوں کی حق تلفی کرتے ہیں اسی طرح اس زمانے میں بھی زور آور لوگوں نے ایک من مانا ضابطہ بنا لیا تھا جس میں سارا حق اس کا تھا جو قوی ہو، کمزوروں کے لیے اس میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔