Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 21

  1. كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ﴿21﴾

    1. كَلَّآ اِذَاہرگز نہیں۔ جب
    2. دُكَّتِپست کردی جائیگی
    3. الْاَرْضُزمین
    4. دَكًّا دَكًّاکوٹ کوٹ کر
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہر گز نہیں، اس وقت کو یاد رکھیں جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مال کے پرستاروں کو تنبیہ: یہ مال کے پرستاروں کو اس دن کی یاددہانی کی گئی ہے جب وہ چیتیں گے اور حسرت کریں گے کہ کاش، انھوں نے اپنے مال کو اس دن کی تیاریوں میں صرف کیا ہوتا لیکن اس وقت کا چیتنا بالکل بے سود ہو گا۔ وہ وقت چیتنے کا نہیں بلکہ نتائج اعمال کے بھگتنے کا ہو گا۔ ’کَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا‘۔ ’کَلَّا‘ یہاں ان کے اس زعم کی تردید کے لیے ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ جس کو مال ملتا ہے وہ اس خبط میں پڑ جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی سرفرازی اور عزت افزائی ہوئی ہے حالانکہ اس دنیا کی کوئی چیز بھی کسی کو ملتی ہے تو سرفرازی کے لیے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لیے ملتی ہے۔ ایک دن آئے گا کہ ہر چیز نیست و نابود کر دی جائے گی اور انسان کو صرف اپنے نتائج اعمال سے سابقہ پیش آئے گا۔ ’دَکَ الْأَرْضَ‘ کے معنی ہیں ’سَوّٰی صَعُوْدَھَا وَھَبُوْطَھَا‘ زمین کی ہر چیز کو توڑ پھوڑ کر اس کے تمام نشیب و فراز اور اونچ نیچ برابر کر دیے۔ قیامت کے دن زمین کا جو حال ہو گا اس کی تصویر سورۂ کہف میں یوں کھینچی گئی ہے: إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْأَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ أَیُّہُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً ۵ وَإِنَّا لَجَاعِلُوۡنَ مَا عَلَیْہَا صَعِیْدًا جُرُزًا (الکہف ۱۸: ۷-۸) ’’زمین کے اوپر جو کچھ بھی ہے ہم نے اس کے لیے اس کو سنگھار بنایا ہے تاکہ ہم امتحان کریں کہ لوگوں میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے اور ایک دن ہم اس سب کو جو اس کے اوپر ہے صفا چٹ میدان کر دینے والے ہیں۔‘‘ مطلب یہ ہے کہ اس زمین کے اوپر جو کچھ بھی ہے محض وقتی سنگھار کے طور پر ہے۔ مقصود اس سے لوگوں کا امتحان ہے کہ لوگ اسی پر ریجھ کر رہ جاتے ہیں یا اس کے ساتھ جو آخرت لگی ہوئی ہے اس کی فکر بھی کچھ کرتے ہیں۔ بالآخر ایک دن ایسا آنے والا ہے جب اس کا یہ سارا سنگھار چھن جائے گا۔ نہ اس کے دریا اور پہاڑ باقی رہیں گے، نہ وادی و کہسار، نہ باغ و چمن رہیں گے اور نہ ایوان و محل۔ صرف صفا چٹ میدان رہ جائے گا۔