Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 27

  1. یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ﴿27﴾

    1. يٰٓاَيَّتُهَااے
    2. النَّفْسُروح
    3. الْمُطْمَئِنَّةُاطمینان والی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے وہ جس کا دل اپنے رب پر جما رہا ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مستحقین جنت کو براہ راست بشارت: اس دن مستحقین جنت کو جو بشارت براہ راست رب کریم کی طرف سے ملے گی یہ اس کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں خاص توجہ کی چیز ’یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ‘ کا خطاب ہے جس سے جنت کے مستحقین کو نوازا جائے گا۔ اس خطاب سے ان کے نفس کی اس خاص صفت پر روشنی پڑ رہی ہے جس کی بنا پر وہ جنت کے حق دار قرار پائیں گے۔ اوپر آیات ۱۵-۱۶ میں ان تنک ظرفوں اور تھڑ دلوں کا حال بیان ہوا تھا جن کو نعمت ملتی ہے تو وہ بہک کر اترانے اور فخر کرنے والے بن جاتے ہیں اور جب ذرا تنگئ رزق کی آزمائش پیش آ جائے تو بالکل دل شکستہ ہو کر خدا سے مایوس اور شاکی بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا انجام بیان ہوا۔ اب اس کے مقابل میں ان لوگوں کا حال اور انجام بیان ہو رہا ہے جن کے قدم تنگی اور فراخی دونوں طرح کے حالات میں جادۂ حق پر استوار رہتے ہیں۔ نعمت ملتی ہے تو وہ اس کو اپنے شکر کا امتحان سمجھتے ہیں اور طغیان و فساد میں مبتلا ہونے کے بجائے کوشش کرتے ہیں کہ اپنے رب کے امتحان میں پورے اتریں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان فرمایا ہے وہ بھی اللہ کے بندوں پر احسان کریں۔ اسی طرح اگر ان کو تنگئ رزق سے سابقہ پیش آتا ہے تو بے حوصلہ اور اپنے رب سے مایوس ہونے کے بجائے اس کو وہ اپنے صبر کا امتحان سمجھتے ہیں اور جان کی بازی لگا کر کوشش کرتے ہیں کہ اس امتحان سے سرخرو نکلیں، نہ دنیا میں ان کو اپنے ضمیر کے آگے شرمندہ ہونا پڑے نہ آخرت میں اپنے رب کے آگے۔ ان لوگوں کا دل چونکہ عُسر و یُسر اور نرمی و سختی دونوں طرح کے حالات میں اپنے رب سے راضی و مطمئن اور ڈانواں ڈول ہونے سے محفوظ رہتا ہے اس وجہ سے اس کو نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا ہے اور یہی لوگ ہیں جو جنت کے وارث ہوں گے۔