تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 50
Tafseerاِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ﴿50﴾
- اِنْاگر
- تُصِبْكَتمہیں پہنچے
- حَسَنَةٌکوئی بھلائی
- تَسُؤْهُمْانہیں بری لگے
- وَاِنْاور اگر
- تُصِبْكَتمہیں پہنچے
- مُصِيْبَةٌکوئی مصیبت
- يَّقُوْلُوْاتو وہ کہیں
- قَدْ اَخَذْنَآہم نے پکڑ لیا (سنبھال لیا) تھا
- اَمْرَنَااپنا کام
- مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
- وَيَتَوَلَّوْااور وہ لوٹ جاتے ہیں
- وَّهُمْاور وہ
- فَرِحُوْنَخوشیاں مناتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر تمہیں کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو انہیں دکھ ہوتا ہے اور اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں خوب ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور مگن ہو کر لوٹتے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
منافقین کا اصل باطن : یہ ان کے اصل باطن سے پردہ اٹھایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عذرات اور بہانے تو محض اوپر کا پردہ ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر تو صرف تمہاری بد خواہی بھری ہوئی ہے۔
اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ، جب تمہیں کسی مہم میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ان کو بڑا دکھ ہوتا ہے اور، وَاِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَّهُمْ فَرِحُوْنَ ، اگر تمہیں کوئی افتاد پیش آجائے تو بہت خوش ہو کر لوٹتے ہیں کہ خوب ہوا کہ ہم نے اپنا بچاؤ پہلے ہی کرلیا تھا۔ قَدْ اَخَذْنَآ اَمْرَنَا کی تاویل بعض لوگوں نے قَدْ اَخَذْنَآ حذرنا سے کی ہے ہمارے نزدیک یہ تاویل صحیح ہے۔