تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 9. At-Tawba · Ayah 87
رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ﴿87﴾
- رَضُوْاوہ راضی ہوئے
- بِاَنْکہ وہ
- يَّكُوْنُوْاہوجائیں
- مَعَساتھ
- الْخَوَالِفِپیچھے رہ جانیوالی عورتیں
- وَطُبِعَاور مہر لگ گئی
- عَلٰيپر
- قُلُوْبِهِمْان کے دل
- فَهُمْسو وہ
- لَا يَفْقَهُوْنَسمجھتے نہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ پیچھے رہ جانے والیوں کے ساتھی بنیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر کردی گئی ہے تو اب وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
رَضُوْا بِاَنْ يَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ۔ مرد ہو کر عورتوں کے ساتھی : خوالف، عورتوں کو کہتے ہیں اس لیے کہ مرد جنگ و جہاد اور دوسرے مردانہ کاموں کے لیے گھر سے باہر نکلتے ہیں اور یہ بچوں اور گھروں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں بیٹھتی ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے مرد ہو کر غازیوں کی ہم سفری اور ہم رکابی کی بجائے اپنے لیے یہی پسند کیا کہ عورتوں کی طرح گھروں میں بیٹھیں۔ ان کی اس ایمانی اور اخلاق موت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا گیا، نہ اب وہ کوئی صحیح بات سوچتے ہیں۔ نہ کسی عزم و ہمت کے کام کے لیے ان کے اندر حوصلہ ہی پیدا ہوتا ہے۔