Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 1

  1. وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ﴿1﴾

    1. وَالشَّمْسِسورج کی قسم
    2. وَضُحٰىهَااور اس کی روشنی
Translation · Tadabbur-e-Quran
شاہد ہے آفتاب اور اس کا چڑھنا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اضداد اور ان کی باہمی سازگاری کا درس: یہ آفاق کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اشیاء کے جوڑے جوڑے ہونے سے قرآن نے توحید، معاد اور جزا و سزا پر جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔ یہاں جس خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ہر چند سورج اور چاند، دن اور رات میں سے ہر چیز کی شکل و صورت، ان کے ظہور کے طریقے، ان کے مزاج اور اس کائنات پر ان کے اثرات میں بڑا فرق ہے جس کے سبب سے یہ دنیا اضداد کی ایک رزم گاہ معلوم ہوتی ہے لیکن مدبر کائنات نے ان اضداد کو اس طرح اس عالم کی مشین میں فٹ کیا ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں ان میں کسی قسم کا تصادم واقع ہو بلکہ یہ نہایت سازگاری کے ساتھ اپنے اپنے دائروں میں کائنات کی مجموعی مصلحت میں رات دن سرگرم ہیں۔ نہ سورج چاند کے حدود میں مداخلت کرتا، نہ چاند اپنے وقت سے پہلے ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتا، نہ دن کی یہ تاب کہ وہ اپنے وقت سے پہلے برآمد ہو جائے اور نہ رات کی یہ مجال کہ وہ دن کو اس کی ڈیوٹی پوری کرنے سے پہلے ہی برخاست کر دے: ’لَا الشَّمْسُ یَنبَغِیْ لَہَا أَن تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۴۰) (نہ سورج کے لیے روا کہ وہ چاند کو جا لے اور نہ رات ہی دن سے سبقت کرنے والی بن سکتی)۔ ان اضداد کی یہ باہمی سازگاری ہی ہے جس پر اس کائنات کے بقاء کا انحصار ہے۔ اگر اس سازگاری و فرماں برداری کے بجائے ان کے اندر طغیان و سرکشی پیدا ہو جائے تو یہ عالم چشم زدن میں درہم برہم ہو جائے۔ اس وجہ سے خالق کائنات نے ان کو ان کے حدود کا پابند کر رکھا ہے اور یہ اپنے وجود سے زمین پر بسنے والوں کو یہ درس دیتے ہیں کہ وہ بھی خدا کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کریں۔ اگر وہ اس کی خلاف ورزی کریں گے تو زمین میں فساد برپا کریں گے اور زمین کا خداوند ان لوگوں کو گوارا نہیں کرے گا جو اس کے ملک میں فساد برپا کریں گے۔