تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 5
وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ﴿5﴾
- وَالسَّمَآءِاور آسمان کی
- وَمَا بَنٰىهَااور جس نے اسے بنایا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور شاہد ہے آسمان اور جیسا کچھ اس کو اٹھایا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آسمان و زمین کی ساخت میں انسان کے لیے سبق:
یہ آسمان اور زمین کی ساخت، ان کی عظمت اور ان کی فیض بخشی کی طرف توجہ دلائی کہ یہ بھی اپنے بنانے والے کی عظیم قدرت، بے نہایت حکمت اور غیر محدود ربوبیت کی شہادت دیتے ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے ناممکن نہیں ہے، اس کی حکمت اتھاہ اور اس کی رحمت و ربوبیت ہمہ گیر ہے۔ اس کی اس قدرت، حکمت اور ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو اس میں شتر بے مہار بنا کے نہ چھوڑے بلکہ دیکھے کہ جن کے لیے اس نے یہ سب کچھ بنایا وہ اس میں کیا بنا رہے ہیں اور پھر ان کے رویہ کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کی یہ تمام قدرت و حکمت اور یہ ساری ربوبیت و رحمت بے معنی اور یہ سارا کارخانہ ایک کارعبث بن کے رہ جائے گا۔
’ما‘ موصولہ اور ’ما‘ مصدریہ: ’وَمَا بَنَاہَا‘ اور ’وَمَا طَحَاہَا‘ میں ’مَا‘ سے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مصدریہ ہے یا موصولہ؟ ہمارے نزدیک یہ مصدریہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو موصول مانیے تو اس سے خدا کو مراد لینا پڑے گا درآنحالیکہ یہ قَسمیں خدا کی نہیں بلکہ اس کی آیات قدرت و حکمت کی ہیں اور خاص طور پر ان کے ان پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو انسان کے اندر اس عبرت نگاہی کو پیدا کریں جو اس تعلیم کے قبول کرنے کے لیے راہ کھولے جو سورہ میں دی گئی ہے۔ اوپر کی قسمیں سورج، چاند، دن اور رات کی ہیں اور ان کے ساتھ ’اِذَا تَلَاہَا‘۔ ’اِذَا جَلَّاہَا‘۔ ’اِذَا یَغْشَاہَا‘ وغیرہ کی قیدیں نگاہ کے زاویہ کو ٹھیک رکھنے کے لیے لگائی گئی ہیں۔ اس سیاق میں اگر یہ بات کہی جائے کہ ’اور میں قسم کھاتا ہوں آسمان کی اور اس اللہ کی جس نے اس کو بنایا، تو اس قَسم کی نوعیت اوپر کی قَسموں سے بالکل مختلف ہو جائے گی۔ اس کا ایک ٹکڑا تو شہادت کے مفہوم میں اور دوسرا تعظیم و تقدیس کے مفہوم میں لینا پڑے گا جس کا یہاں کوئی محل نہیں ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی آیات کی شہادت پیش کی ہے، اپنی ذات کی شہادت نہیں پیش کی ہے۔ علاوہ ازیں ’مَا‘ اللہ تعالیٰ کے لیے موزوں بھی نہیں ہے۔
’مَا‘ مصدریہ کے متعلق یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ یہ فعل کو صرف مصدر کے معنی میں کر دینے ہی کے لیے نہیں آتا بلکہ اس فعل میں جو قدرت، جو شان، جو حکمت، جو فیض بخشی، جو ندرت اور جو حیرت انگیز صنعت گری مضمر یا ظاہر ہوتی ہے ان سب کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ مثلاً آسمان کے ساتھ ’وَمَا بَنَاہَا‘ جو فرمایا تو اس کے معنی ہوں گے: ’اور شاہد ہے آسمان اور اس کی حیرت انگیز ساخت، اور اس کے اندر آسمان کے وہ تمام عجائب اور کرشمے مضمر ہوں گے جن کی طرف قرآن نے گوناگوں اسلوبوں سے توجہ دلائی اور اپنے مختلف بنیادی دعاوی پر ان سے دلیل قائم کی ہے۔ ظاہر ہے کہ ’مَا‘ موصولہ کے اندر ان استدلالی پہلوؤں کی طرف توجہ دلانے کی کوئی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ’مَا‘ مصدریہ، کی اسی وسعت و جامعیت کے سبب سے اردو میں اس کا ترجمہ نہایت مشکل ہے۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے بعض فاضل مترجموں نے اس کا مفہوم ادا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اردو میں یہ اسلوب موجود نہ ہونے کے سبب سے پورا مفہوم ادا نہیں ہو سکا۔ میں نے بھی اپنے ترجمہ میں اس کی کوشش کی ہے لیکن مجھے اپنی تقصیر کا اعتراف ہے کہ میں بھی اس کا حق ادا نہیں کر سکا۔
’وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاہَا‘ کو بھی اسی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ سورۂ غاشیہ میں فرمایا ہے: ’وَإِلَی الْأَرْضِ کَیْفَ سُطِحَتْ‘ (الغاشیہ ۸۸: ۲۰) اور اس کے تحت ہم نے واضح کیا ہے کہ اس اجمال کے اندر وہ ساری تفصیل مضمر ہے جو قرآن نے دوسرے مقامات میں زمین کے آثار و عجائب سے متعلق بیان فرمائی اور اس سے اپنے مختلف دعاوی پر دلیل قائم کی ہے۔ گویا جن حقائق پر غور کرنے کے لیے سورۂ غاشیہ میں ’کَیْفَ‘ سے ابھارا ہے انہی پر غور کرنے کے لیے یہاں ’مَا مصدریہ‘ سے کام لیا ہے۔ لیکن دونوں کے محل استعمال میں ایک دقیق فرق بھی ہے جس پر گفتگو کا یہاں موقع نہیں ہے۔