Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 19

  1. وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ﴿19﴾

    1. وَمَااور نہیں
    2. لِاَحَدٍکسی کے لئے
    3. عِنْدَهٗاس پر
    4. مِنْ نِّعْمَةٍنعمت (احسان) سے
    5. تُجْزٰٓىبدلہ دی جائے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جس کی کسی پر کوئی عنایت بدلے کے لیے نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انفاق وہ مقبول ہے جو رضائے الٰہی کے لیے ہو: یہ ’یُؤْتِیْ مَا لَہٗ یَتَزَکّٰی‘ کی وضاحت ہے۔ یعنی تزکیۂ نفس کے مقصد کے لیے وہ انفاق اللہ تعالیٰ کے نزدیک وزن رکھتا ہے جو صرف اس کی خوشنودی اور رضا جوئی کی خاطر کیا جائے، یہ غرض نہ ہو کہ کسی کو ممنون احسان کر کے اس سے کسی شکل میں اس کا بدلہ چاہا جائے۔ اوپر سورۂ دہر کی آیت ’لَا نُرِیْدُ مِنْکُمْ جَزَآءً وَّلَا شُکُوْرًا‘ (الدہر ۷۶: ۹) (ہم کسی بدلے یا شکریہ کے طالب نہیں ہیں) ہم نقل کر آئے ہیں۔ جومضمون اس آیت کا ہے۔ وہی مضمون دوسرے لفظوں میں یہاں بھی ہے۔ ایک غلط فہمی کا ازالہ: بعض لوگوں نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ’اور کسی کا اس پر احسان نہیں جس کا وہ بدلہ دے‘۔ اگرچہ الفاظ کے اعتبار سے اس ترجمہ کو غلط نہیں قرار دیا جا سکتا لیکن اس کا مطلب اگر یہ ہے کہ جو شخص اس پر کچھ خرچ کرے جس نے پہلے اس پر کوئی احسان کیا ہے تو یہ انفاق اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو گا تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ احسان کرنے والے پر احسان کرنا اس درجہ کی نیکی نہ سہی جو کسی احسان نہ کرنے والے پر کی جاتی ہے لیکن آخر یہ نیکی کیوں نہیں ہے؟ ایک غریب نے آپ کو کبھی پیاس میں پانی پلا دیا تھا، کیا آپ اس کو بھوک میں روٹی کھلا دیں گے تو آپ کا یہ فعل رضائے الٰہی کے لیے نہ ہو گا! ہم نے آیت کا جو ترجمہ کیا ہے اس پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ ہمارے نزدیک یہ ترجمہ زبان کے اعتبار سے بھی صحیح ہے اور تاویل کے پہلو سے بھی اس میں کوئی الجھن نہیں پیدا ہوتی۔