تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 8
وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ﴿8﴾
- وَاَمَّااور جو
- مَنْۢ بَخِلَجس نے بخل کیا
- وَاسْتَغْنٰىاور بےپروا رہا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جس نے بخالت کی اور بےپروا ہوا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مقابل گروہ کے انجام کا بیان:
یہ مقابل گروہ یعنی ان لوگوں کا بیان ہے جو اسی دنیا کی زندگی کو کل زندگی سمجھتے ہیں۔ جو اپنے مال پر مارگنج بن کر بیٹھے اور آخرت سے بالکل نچنت ہیں، جو نہ کسی جزا و انعام کے قائل اور نہ اس کے لیے کوئی بازی کھیلنے کا حوصلہ رکھتے۔ فرمایا کہ ان کا حشر مذکورہ بالا گروہ سے بالکل مختلف ہو گا۔ ان کو اللہ تعالیٰ اس راہ پر چلنے کے لیے ڈھیل دے دے گا جو ان کو نہایت کٹھن منزل پر لے جا چھوڑے گی۔ یہاں بھی’عُسْرٰی‘ کا موصوف محذوف ہے اور ’تیسیر‘ امہال یعنی ڈھیل دینے کے مفہوم میں ہے۔
قرآن میں یہ سنت الٰہی جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ جو لوگ نیکی کی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کی باگ ان کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے۔ ان کو اپنے نفس سے کوئی مزاحمت نہیں کرنی پڑتی اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی راہ نہایت ہموار ہے۔ نفس کی پیروی کرتے ہوئے وہ خوش خوش زندگی کی آخری منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو اس مرحلہ سے سابقہ پیش آنا ہے جس کو قرآن نے
’سَأُرْہِقُہُ صَعُوۡدًا‘ (المدثر ۷۴: ۱۷)
(میں اس کو چڑھاؤں گا ایک کٹھن چڑھائی)
سے تعبیر کیا ہے۔ یہاں اسی مرحلے کی طرف اشارہ ہے۔
اس کے بالکل برعکس ان لوگوں کی زندگی ہوتی ہے جو ایمان اور عمل صالح کی راہ پر چلنے کا حوصلہ کر لیتے ہیں۔ ان کو قدم قدم پر اپنے نفس کی خواہشوں سے لڑائی کرنی پڑتی ہے اور اس لڑائی ہی سے ان کو بالتدریج وہ قوت حاصل ہوتی ہے جو راہ کے عقبات عبور کرنے میں ان کو مدد دیتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے ان کے سامنے
’فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ ۵ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ‘ (الفجر ۸۹: ۲۹-۳۰)
(شامل ہو جاؤ میرے بندوں میں اور داخل ہو جاؤ میری جنت میں۔)
کی آخری منزل آ جاتی ہے۔