Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 99. Az-Zalzala · Ayah 4

  1. یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ﴿4﴾

    1. يَوْمَئِذٍاس دن
    2. تُحَدِّثُبیان کرے گی
    3. اَخْبَارَهَااپنی خبریں (حالات)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس دن وہ اپنی داستان کہہ سنائے گی ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
زمین ہر ایک کا ریکارڈ سنا دے گی: یعنی اس دن زمین وہ تمام نیکیاں اور بدیاں جو اس کی پشت پر کی گئی ہیں خدا کے حکم سے سنا ڈالے گی۔ قرآن کے دوسرے مقامات میں یہ تصریح ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ مجرموں کے اعضاء کو ناطق بنا دے گا اور وہ ان کے خلاف گواہی دیں گے یہاں تک کہ ان کی کھالیں (بدن کے رونگٹے) بھی ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ سورۂ حٰم السجدہ میں فرمایا ہے: وَقَالُوْا لِجُلُوْدِھِمْ لِمَ شَھِدْتُّمْ عَلَیْنَا قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْءٍ.(حٰم السجدہ ۴۱: ۲۱) ’’اور مجرمین اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ آخر تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ وہ جواب دیں گی کہ جس خدا نے آج ہر چیز کو گویا کر دیا ہے اس نے ہمیں بھی گویا کر دیا۔‘‘ اس دنیا میں انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اسی زمین کے اوپر یا نیچے کرتا ہے اس وجہ سے یہ انسان کے اعمال و اقوال کی سب سے بڑی گواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جس طرح انسان کے اعضاء و جوارح اور اس کے بدن کے روئیں روئیں کو اس کے خلاف گواہی دینے اور اس کی زندگی کا ریکارڈ سنانے کے لیے گویا کر دے گا اسی طرح زمین کو بھی ناطق بنا دے گا کہ وہ ہر ایک کا ریکارڈ سنا دے۔