تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 10. Yunus · Ayah 30
Tafseerهُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ع﴿30﴾
- هُنَالِكَوہاں
- تَبْلُوْاجانچ لے گا
- كُلُّ نَفْسٍہر کوئی
- مَّآجو
- اَسْلَفَتْاس نے بھیجا
- وَرُدُّوْٓااور وہ لوٹائے جائینگے
- اِلَىطرف
- اللّٰهِاللہ
- مَوْلٰىھُمُان کا (اپنا) مولی
- الْحَقِّسچا
- وَضَلَّاور گم ہوجائے گا
- عَنْھُمْان سے
- مَّاجو
- كَانُوْا يَفْتَرُوْنَوہ جھوٹ باندھتے تھے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا، سب اپنے مالک حقیقی کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گم ہو جائیں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْنُس 37
یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دنیا میں دیوی اور دیوتا قرار دے کر پوجا گیا، اور وہ تمام جن، ارواح، اسلاف، اجداد، انبیاء، اولیاء، شہداء وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھیرا کر وہ حقوق انہیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقوق تھے، وہاں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لا رہے ہو۔ تمہاری کوئی دعا، کوئی التجا، کوئی پکار اور فریاد، کوئی نذر و نیاز، کوئی چڑھاوے کی چیز، کوئی تعریف و مدح اور ہمارے نام کی جاپ اور کوئی سجدہ ریزی و آستانہ بوسی و درگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی۔