تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 10. Yunus · Ayah 36
Tafseerوَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ﴿36﴾
- وَمَا يَتَّبِعُاور پیروی نہیں کرتے
- اَكْثَرُھُمْان کے اکثر
- اِلَّا ظَنًّامگر گمان
- اِنَّبیشک
- الظَّنَّگمان
- لَا يُغْنِيْنہیں کام دیتا
- مِنَسے (کام)
- الْحَقِّحق
- شَيْئًاکچھ بھی
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- عَلِيْمٌخوب جانتا ہے
- بِمَاوہ جو
- يَفْعَلُوْنَوہ کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جارہے ہیں 44، حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْنُس 44
یعنی جنہوں نے مذاہب بنائے، جنہوں نے فلسفے تصنیف کیے، اور جنہوں نے قوانین حیات تجویز کیے انہوں نے بھی یہ سب کچھ علم کی بنا پر نہیں بلکہ گمان و قیاس کی بنا پر کیا۔ اور جنہوں نے ان مذہبی اور دنیوی رہنماؤں کی پیروی کی انہوں نے بھی جان کر اور سمجھ کر نہیں بلکہ محض اس گمان کی بنا پر ان کا اتباع اختیار کرلیا کہ ایسے بڑے بڑے لوگ جب یہ کہتے ہیں اور باپ دادا ان کو مانتے چلے آرہے ہیں اور ایک دنیا ان کی پیروی کر رہی ہے تو ضرور ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔