تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 10. Yunus · Ayah 78
قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ﴿78﴾
- قَالُوْٓاوہ بولے
- اَجِئْتَنَاکیا تو آیا ہمارے پاس
- لِتَلْفِتَنَاکہ پھیر دے ہمیں
- عَمَّااس سے جو
- وَجَدْنَاپایا ہم نے
- عَلَيْهِاس پر
- اٰبَآءَنَاہمارے باپ دادا
- وَتَكُوْنَاور ہوجائے
- لَكُمَاتم دونوں کے لیے
- الْكِبْرِيَآءُبڑائی
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- وَمَااور نہیں
- نَحْنُہم
- لَكُمَاتم دونوں کے لیے
- بِمُؤْمِنِيْنَایمان لانے والوں میں سے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اُنہوں نے جواب دیا”کیا تُو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تُم دونوں کی قائم ہو جائے؟76 تمہاری بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْنُس 76
ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا اصل مطالبہ رہائی بنی اسرائیل ہوتا تو فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ اندیشہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ ان دونوں بزرگوں کی دعوت پھیلنے سے سرزمین مصر کا دین بدل جائے گا اور ملک میں ہمارے بجائے ان کی بڑائی قائم ہوجائے گی۔ ان کے اس اندیشے کی وجہ تو یہی تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ اہل مصر کو بندگی حق کی طرف دعوت دے رہے تھے اور اس سے وہ مشرکانہ نظام خطرے میں تھا جس پر فرعون کی بادشاہی اور اس کے سرداروں کی سرداری اور مذہبی پیشواؤں کی پیشوائی قائم تھی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، 66۔ المومن، 43)۔