Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 10. Yunus · Ayah 99

  1. وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴿99﴾

    1. وَلَوْاور اگر
    2. شَآءَچاہتا
    3. رَبُّكَتیرا رب
    4. لَاٰمَنَالبتہ ایمان لے آتے
    5. مَنْجو
    6. فِي الْاَرْضِزمین میں
    7. كُلُّھُمْ جَمِيْعًاوہ سب کے سب
    8. اَفَاَنْتَپس کیا تو
    9. تُكْرِهُمجبور کریگا
    10. النَّاسَلوگ
    11. حَتّٰىیہانتک کہ
    12. يَكُوْنُوْاوہ ہوجائیں
    13. مُؤْمِنِيْنَمومن (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
اگر تیرے ربّ کی مشیّت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں)تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ 101پھر کیا تُو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟102
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْنُس 101 یہ لوگ ایسے تھے جن کا معاملہ مشکوک تھا۔ نہ ان کے منافق ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا تھا نہ گناہگار مومن ہونے کا ان دونوں چیزوں کی علامات ابھی پوری طرح نہ ابھری تھیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے معاملہ کو ملتوی رکھا۔ نہ اس معنی میں کہ فی الواقع خدا کے سامنے معاملہ مشکوک تھا، بلکہ اس معنی میں کہ مسلمانوں کو کسی شخص یا گروہ کے معاملہ میں اپنا طرز عمل اس وقت تک متعین نہ کرنا چاہیے کہ جب تک اس کی پوزیشن ایسی علامات سے واضح نہ ہوجائے جو علم غیب سے نہیں بلکہ حس اور عقل سے جانچی جاسکتی ہوں۔