تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 107. Al-Maa'un · Ayah 6
Tafseerالَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَۙ﴿6﴾
- الَّذِيْنَجو کہ
- هُمْوہ
- يُرَآءُوْنَدکھاوا کرتے ہیں
Translation · Tafheem-ul-Quran
جو ریا کاری کرتے ہیں 10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الماعون 10
یہ فقرہ ایک مستقل فقرہ بھی ہوسکتا ہے اور پہلے فقرے سے متعلق بھی۔ اگر اسے ایک مستقل فقرہ قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کوئی نیک کام بھی وہ خالص نیت کے ساتھ خدا کے لیے نہیں کرتے بلکہ جو کچھ کرتے ہیں دوسروں کو دکھانے کے لیے کرتے ہیں تاکہ ان کی تعریف ہو، لوگ ان کو نیکو کار سمجھیں، ان کے کار خیر کا ڈھنڈورا دنیا میں پٹے، اور اس کا فائدہ کسی نہ کسی صورت میں انہیں دنیا ہی میں حاصل ہوجائے۔ اور اگر اس کا تعلق پہلے فقرے کے ساتھ مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ دکھاوے کی نمازیں پڑھتے ہیں۔ مفسرین نے بالعموم دوسرے ہی معنی کو ترجیح دی ہے کیونکہ پہلی نظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اس کا تعلق پہلے فقرے سے ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں " اس سے مراد منافقین ہیں جو دکھاوے کی نماز پڑھتے تھے، اگر دوسرے لوگ موجود ہوتے تو پڑھ لیتے اور کوئی دیکھنے والا نہ ہوتا تو نہیں پڑھتے تھے "۔ دوسری روایت میں ان کے الفاظ یہ ہیں " تنہا ہوتے تو نہ پڑھتے اور علانیہ پڑھ لیتے تھے " (ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، بیہقی فی الشعب) قرآن مجید میں بھی منافقین کی یہ حالت بیان کی گئی ہے کہ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا " اور جب وہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں، لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں "۔ (النساء۔ 142)