Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 11. Hud · Ayah 77

  1. وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ﴿77﴾

    1. وَلَمَّااور جب
    2. جَآءَتْآئے
    3. رُسُلُنَاہمارے فرشتے
    4. لُوْطًالوط کے پاس
    5. سِيْٓءَوہ غمیگن ہوا
    6. بِهِمْان سے
    7. وَضَاقَاور تنگ ہوا
    8. بِهِمْان سے
    9. ذَرْعًادل میں
    10. وَّقَالَاور بولا
    11. ھٰذَایہ
    12. يَوْمٌ عَصِيْبٌبڑا سختی کا دن
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور جب ہمارے فرشتے لُوط کے پاس پہنچے85 تو اُن کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا کہ ”آج بڑی مصیبت کا دن ہے۔“86
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة هُوْد 85 سورۃ اعراف رکوع 10 کے حواشی پیش نظر ہیں۔ سورة هُوْد 86 اس قصے کی جو تفصیلات قرآن مجید میں بیان ہوئی ہیں ان کے فحوائے کلام سے یہ بات صاف مترشح ہوتی ہے کہ یہ فرشتے خوبصورت لڑکوں کی شکل میں حضرت لوط ؑ کے ہاں پہنچے تھے اور حضرت لوط ؑ اس بات سے بیخبر تھے کہ یہ فرشتے ہیں۔ یہی سبب تھا کہ ان مہمانوں کی آمد سے آپ کو سخت پریشانی و دل تنگی لاحق ہوئی۔ اپنی قوم کو جانتے تھے کہ وہ کیسی بدکردار اور کتنی بےحیا ہوچکی ہے۔