تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 110. An-Nasr · Ayah 1
Tafseerاِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ﴿1﴾
- اِذَا جَآءَجب آجائے
- نَصْرُ اللّٰهِاللہ کی مدد
- وَالْفَتْحُاور فتح
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہو جائے 1
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة النصر 1
فتح سے مراد کسی ایک معرکے میں فتح نہیں، بلکہ وہ فیصلہ کن فتح ہے جس کے بعد ملک میں کوئی طاقت اسلام سے ٹکر لینے کے قابل باقی نہ رہے اور یہ امر واضح ہوجائے کہ اب عرب میں اسی دین کو غالب ہو کر رہنا ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد فتح مکہ لی ہے۔ لیکن فتح مکہ 8 ھ میں ہوئی ہے اور اس سورة کا نزول 10 ھ کے آخر میں ہوا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت سراء بنت بنہان کی ان روایات سے معلوم ہوتا ہے جو ہم نے دیباچے میں نقل کی ہیں۔ علاوہ بریں حضرت عبداللہ بن عباس کا یہ قول بھی اس تفسیر کے خلاف پڑتا ہے کہ یہ قرآن مجید کی سب سے آخری سورة ہے۔ کیونکہ اگر فتح سے مراد فتح مکہ ہو تو پوری سورة توبہ اس کے بعد نازل ہوئی تھی، پھر یہ سورة آخری سورة کیسے ہوسکتی ہے۔ بلا شبہ فتح مکہ اس لحاظ سے فیصلہ کن تھی کہ اس نے مشرکین عرب کی ہمتیں پست کردی تھیں، مگر اس کے بعد بھی ان میں کافی دم خم باقی تھا۔ طائف اور حنین کے معرکے اس کے بعد ہی پیش آئے اور عرب پر اسلام کا غلبہ مکمل ہونے میں تقریبا دو سال صرف ہوئے۔