Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 36

Tafseer
  1. وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿36﴾

    1. وَدَخَلَاور داخل ہوئے
    2. مَعَهُاس کے ساتھ
    3. السِّجْنَقید خانہ
    4. فَتَيٰنِدوجوان
    5. قَالَکہا
    6. اَحَدُهُمَآان میں سے ایک
    7. اِنِّىْٓبیشک
    8. اَرٰىنِيْٓبیشک میں دیکھتا ہوں
    9. اَعْصِرُنچوڑ رہا ہوں
    10. خَمْرًاشراب
    11. وَقَالَاور کہا
    12. الْاٰخَرُدوسرا
    13. اِنِّىْٓ اَرٰىنِيْٓمیں دیکھتا ہوں
    14. اَحْمِلُاٹھائے ہوئے ہوں
    15. فَوْقَاوپر
    16. رَاْسِيْاپنا سر
    17. خُبْزًاروٹی
    18. تَاْكُلُکھا رہے ہیں
    19. الطَّيْرُپرندے
    20. مِنْهُاس سے
    21. نَبِّئْنَاہمیں بتلائیے
    22. بِتَاْوِيْلِهٖاس کی تعبیر
    23. اِنَّا نَرٰىكَبیشک ہم تجھے دیکھتے ہیں
    24. مِنَسے
    25. الْمُحْسِنِيْنَنیکو کار (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
قید خانہ میں31 دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے۔32 ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشِید کر رہا ہوں۔“ دُوسرے نے کہا”میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں۔“ دونوں نے کہا ”ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔“33
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 31 غالبا اس وقت جب کہ حجرت یوسف ؑ قید کیے گئے ان کی عمر بیس اکیس سال سے زیادہ نہ ہوگی۔ تلمود میں بیان کیا گیا ہے کہ قید خانے سے چھوٹ کر جب وہ مصر کے فرمانروا ہوئے تو ان کی عمر تیس سال تھی، اور قرآن کہتا ہے کہ قید خانے میں وہ بضع سنین یعنی کئی سال رہے۔ بضع کا اطلاق عربی زبان میں دس تک کے عدد کے لیے ہوتا ہے۔ سورة یُوْسُف 32 یہ دو غلام جو قید خانہ میں حضرت یوسف ؑ کے ساتھ داخل ہوئے تھے ان کے متعلق بائیبل کی روایت ہے کہ ان میں سے ایک شاہ مصر کے ساقیوں کا سردار تھا اور دوسرا شاہی نان بائیوں کا افسر۔ تلمود کا بیان ہے کہ ان دونوں کو شاہ مصر نے اس قصور پر جیل بھیجا تھا کہ ایک دعوت کے موقع پر روٹیوں میں کچھ کر کر اہٹ پائی گئی تھی اور شراب کے ایک گلاس میں مکھی نکل آئی تھی ! سورة یُوْسُف 33 اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قید خانے میں حضرت یوسف ؑ کس نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ اوپر جن واقعات کا ذکر گزر چکا ہے ان کو پیش نظر رکھنے سے یہ بات قابل تعجب نہیں رہتی کہ ان دوقیدیوں نے آخر حضرت یوسف ؑ ہی سے آکر اپنے خواب کی تعبیر کیوں پوچھی اور ان کی خدمت میں یہ نذر عقیدت کیوں پیش کہ کہ اِنَّا نَرٰکَ مِنَ المُحسِنِینَ۔ جیل کے اندر اور باہر سب لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص کوئی مجرم نہیں ہے بلکہ ایک نہایت نیک نفس آدمی ہے، سخت ترین آزمائشوں میں اپنی پرہیزگاری کا ثبوت دے چکا ہے، آج پورے ملک میں اس سے زیادہ نیک انسان کوئی نہیں ہے، حتٰی کہ ملک کے مذہبی پیشواؤں میں بھی اس کی نظیر مفقود ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نہ صرف قیدی ان کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے تھے بلکہ قید خانے کے حکام اور اہلکار تک ان کے معتقد ہوگئے تھے۔ چناچہ بائیبل میں ہے کہ ”قید خانے کی داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یوسف ؑ کے ہاتھ میں سونپا اور جو کچھ وہ کرتے اسی حکم سے کرتے تھے، اور قید خانے کا داروغہ سب کاموں کی طرف سے جو اس کے ہاتھ میں تھے بےفکر تھا“۔ (پیدائش 39 23، 22)