Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 57

  1. وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ع﴿57﴾

    1. وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِاور آخرت کا بدلہ البتہ
    2. خَيْرٌبہتر
    3. لِّلَّذِيْنَان کے لیے جو
    4. اٰمَنُوْاایمان لائے
    5. وَكَانُوْااور تھے وہ
    6. يَتَّقُوْنَپرہیزگاری کرتے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور آخرت کا اجر اُن لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے۔49
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة یُوْسُف 49 یعنی اب ساری سرزمین مصر اس کی تھی۔ اس کی ہر جگہ کو وہ اپنی جگہ کہہ سکتا تھا۔ وہاں کوئی گوشہ بھی ایسا نہ رہا تھا جو اس سے روکا جاسکتا ہو۔ یہ گویا اس کامل تسلط اور ہمہ گیر اقتدار کا بیان ہے جو حضرت یوسف ؑ کو اس ملک پر حاصل تھا۔ قدیم مفسرین بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ چناچہ ابن زید کے حوالہ سے علامہ ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر میں اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ ”ہم نے یوسف ؑ کو ان سب چیزوں کا مالک بنادیا جو مصر میں تھیں، دنیا کے اس حصے میں وہ جہاں جو کچھ چاہتا کرسکتا تھا، وہ سرزمین اس کے حوالہ کردی گئی تھی، حتی کہ اگر وہ چاہتا کہ فرعون کو اپنا زیر دست کرلے اور خود اس سے بالا تر ہوجائے تو یہ بھی کرسکتا تھا“۔ دوسرا قول علامہ موصوف نے مجاہد کا نقل کیا ہے جو مشہور ائمہ تفسیر میں سے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بادشاہ مصر نے یوسف ؑ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تھا۔