تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 83
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿83﴾
- قَالَاس نے کہا
- بَلْبلکہ
- سَوَّلَتْبنا لی ہے
- لَكُمْتمہارے لیے
- اَنْفُسُكُمْتمہارا دل
- اَمْرًاایک بات
- فَصَبْرٌپس صبر
- جَمِيْلٌاچھا
- عَسَىشاید
- اللّٰهُاللہ
- اَنْ يَّاْتِيَنِيْکہ میرے پاس لے آئے
- بِهِمْانہیں
- جَمِيْعًاسب کو
- اِنَّهٗبیشک وہ
- هُوَوہ
- الْعَلِيْمُجاننے والا
- الْحَكِيْمُحکمت والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
باپ نے یہ داستان سُن کر کہا”دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا۔64 اچھا، اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔ کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اُس کے سب کا م حکمت پر مبنی ہیں۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
64۔ یعنی تمہارے نزدیک یہ باور کرلینا بہت آسان ہے کہ میرا بیٹا جس کے حسن سیرت سے میں خوب واقف ہوں ایک پیالے کی چوری کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ پہلے تمہارے لیے اپنے ایک بھائی کو جان بوجھ کر گم کردینا اور اس کے قمیص پر جھوٹا خون لگا کرلے آنا بہت آسان کام ہوگیا تھا۔ اب ایک دوسرے بھائی کو واقعی چور مان لینا اور مجھے آکر اس کی خبر دینا بھی ویسا ہی آسان ہوگیا۔