تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 12. Yusuf · Ayah 99
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ﴿99﴾
- فَلَمَّاپھر جب
- دَخَلُوْاوہ داخل ہوئے
- عَلٰي يُوْسُفَیوسف پر (پاس)
- اٰوٰٓىاس نے ٹھکانہ دیا
- اِلَيْهِاپنے پاس
- اَبَوَيْهِاپنے ماں باپ
- وَقَالَاور کہا
- ادْخُلُوْاتم داخل ہو
- مِصْرَمصر
- اِنْاگر
- شَآءَ اللّٰهُاللہ نے چاہا
- اٰمِنِيْنَامن (دلجمعی) کے ساتھ
Translation · Tafheem-ul-Quran
پھر جب یہ لوگ یُوسُف ؑ کے پاس پہنچے68 تو اُس نے اپنےوالدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا69 اور (اپنےسب کنبے والوں سے کہا)”چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے۔“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
68۔ بائیبل کا بیان ہے کہ سب افراد خانہ جو اس موقع پر مصر گئے 67 تھے۔ اس تعداد میں دوسرے گھرانوں کی ان لڑکیوں کو شمار نہیں کیا گیا ہے جو حضرت یعقوب کے ہاں بیاہی ہوئی آئی تھیں، اس وقت حضرت یعقوب کی عمر 130 سال تھی اور اس کے بعد وہ مصر میں 17 سال زندہ رہے۔
اس موقع پر ایک طالب علم کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر میں داخل ہوئے تو حضرت یوسف سمیت ان کی تعداد 68 تھے، اور جب تقریبا 5 سو سال کے بعد وہ مصر سے نکلے تو وہ لاکھوں کی تعداد میں تھے، بائیبل کی روایت ہے کہ خروج کے بعد دوسرے سال بیابان سینا میں حضرت موسیٰ نے ان کی جو مردم شماری کرائی تھی اس میں صرف قابل جنگ مردوں کی تعداد 603550 تھی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عوعرت، مرد، بچے سب ملا کر وہ کم از کم 20 لاکھ ہوں گے۔ کیا کسی حساب سے پانچ سو سال میں 68 آدمیوں کی اتنی اولاد ہوسکتی ہے ؟ مصر کی کل آبادی اگر اس زمانے میں 2 کروڑ فرض کی جائے (جو یقینا بہت مبالغہ آمیز اندازہ ہوگا) تو اس کے معنی یہ ہیں کہ صرف بنی اسرائیل وہاں 10 فیصد تھے، کیا ایک خاندان محض تناسل کے ذریعہ ستے اتنا بڑھ سکتا ہے، اس سوال پر غور کرنے سے ایک اہم حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے، ظاہر بات ہے کہ 5 سو برس میں ایک خاندان تو اتنا نہیں بڑھ سکتا، لیکن بنی اسرائیل پیغمبروں کی اولاد تھے، ان کے لیڈر حضرت یوسف جن کی بدولت مصر میں ان کے قدم جمے، خود پیغمبر تھے، ان کے بعد چار پانچ صدی تک ملک کا اقتدار انہی لوگوں کے ہاتھ میں رہا۔ اس دوران میں یقینا انہوں نے مصر میں اسلام کی خوب تبلیغ کی ہوگی، اہل مصر میں سے جو لوگ اسلام لائے ہوں گے ان کا مذہب ہی نہیں بلکہ ان کا تمدن اور پورا طریق زندگی غیر مسلم مصریوں سے الگ اور بنی اسرائیل سے ہم رنگ ہوگیا ہوگا۔ مصریوں نے ان سب کو اسی طرح اجنبی ٹھہرایا ہوگا جس طرح ہندوستان میں ہندوؤں نے ہندوستانی مسلمانوں کو ٹھہرایا، ان کے اوپر اسرائیلی کا لفظ اسی طرح چسپاں کردیا گیا ہوگا، جس طرح غیر عرب مسلمانوں پر " محمڈن " کا لفظ آج چسپاں کیا جاتا ہے، اور وہ خود بھی دینی و تہذیبی روابط اور شادی بیاہ کے تعلقات کی وجہ سے غیر مسلم مصریوں سے الگ اور بنی اسرائیل سے وابستہ ہو کر رہ گئے ہوں گے، یہی وجہ ہے کہ جب مصر میں قوم پرستی کا طوفان اٹھا تو مظالم صرف بنی اسرائیل ہی پر نہیں ہوئے بلکہ مصری مسلمان بھی ان کے ساتھ یکساں لپیٹ لیے گئے، اور جب بنی اسرائیل نے ملک چھوڑا تو مصری مسلمان بھی ان کے ساتھ ہی نکلے اور ان سب کا شمار اسرائیلیوں ہی میں ہونے لگا۔
ہمارے اس قیاس کی تائید بائیبل کے متعدد اشارات سے ہوتی ہے، مثال کے طور پر " خروج " میں جہاں بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے کا حال بیان ہوا ہے، بائیبل کا مصنف کہتا ہے کہ ان کے ساتھ ایک ملی جلی گروہ بھی گئی، (12۔ 38) اسی طرح گنتی میں وہ پھر کہتا ہے کہ جو ملی جلی بھیڑ ان لوگوں میں تھی وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی (11۔ 4) پھر بتدریج ان غیر اسرائیلی مسلمانوں کے لیے اجنبی اور پردیسی کی اصطلاحیں استعمال ہونے لگیں، چناچہ توراۃ میں حضرت موسیٰ کو جو احکام دیے گئے ان میں ہم کو یہ تصریح ملتی ہے
" تمہارے لیے اور اس پردیسی کے لیے جو تم میں رہتا ہے نسل در نسل سدا ایک ہی آئین رہے گا، خداوند کے آگے پردیسی بھی ویسے ہی ہوں جیسے تم ہو، تمہارے لیے اور پردیسیوں کے لیے جو تمہارے ساتھ رہتے ہیں ایک ہی شرع اور ایک ہی قانون ہو " (گنتی 15۔ 15۔ 16)
جو شخص بےباک ہو کر گناہ کرے خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی وہ خداوند کی اہانت کرتا ہے، وہ شخص اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا (گنتی 15۔ 3)
خواہ بھائی بھائی کا معاملہ ہو یا پردیسی کا، تم ان کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا (اتثناء، 1۔ 16)
اب یہ تحقیق کرنا مشکل ہے کہ کتاب الہی میں غیر اسرائیلیوں کے لیے وہ اصل لفظ کیا استعمال کیا گیا تھا جسے مترجموں نے " پردیسی " بنا کر رکھ دیا۔
69۔ تلمود لکھا ہے جب حضرت یعقوب کی آمد کی خبر دار السلطنت میں پہنچی تو حضرت یوسف سلطنت کے بڑے بڑے امراء و اہل مناسب اور فوج فراء کو لیکر ان کے استقبال کے لیے نکلے اور پورے تزک و احتشام کے ساتھ ان کو شہر میں لائے، وہ دن وہاں جشن کا دن تھا، عورت، مرد، بچے سب اس جلوس کو دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوگئے تھے، اور سارے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔