تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 26
اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ع﴿26﴾
- اَللّٰهُاللہ
- يَبْسُطُکشادہ کرتا ہے
- الرِّزْقَرزق
- لِمَنْ يَّشَآءُجس کے لیے وہ چاہتا ہے
- وَيَقْدِرُتنگ کرتا ہے
- وَفَرِحُوْااور وہ خوش ہیں
- بِالْحَيٰوةِزندگی سے
- الدُّنْيَادنیا
- وَمَااور نہیں
- الْحَيٰوةُ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- فِيمقابلہ (میں)
- الْاٰخِرَةِآخرت
- اِلَّامگر (صرف)
- مَتَاعٌمتاع حقیر
Translation · Tafheem-ul-Quran
اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلا رزق دیتا ہے۔42 یہ لوگ دُنیوی زندگی میں مگن ہیں ، حالانکہ دُنیا کی زندگی آخرت کے مقابلےمیں ایک متاعِ قلیل کے سوا کچھ بھی نہیں
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّعْد 42
اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ عام جہلاء کی طرح کفار مکہ بھی عقیدہ و عمل کے حسن و قبح کو دیکھنے کے بجائے امیری اور غریبی کے لحاظ سے انسانوں کی قدر و قیمت کا حساب لگاتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جسے دنیا میں خوب سامان عیش مل رہا ہے وہ خدا کا محبوب ہے، خواہ ہو کیسا ہی گمراہ و بدکار ہو۔ اور جو تنگ حال ہے وہ خدا کا مغضوب ہے خواہ وہ کیسا ہی نیک ہو۔ اسی بنیاد پر وہ قریش کے سرداروں کو نبی ﷺ کے غریب ساتھیوں پر فضیلت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھ لو، اللہ کس کے ساتھ ہے۔ اس پر متنبہ فرمایا جا رہا ہے کہ رزق کی کمی و بیشی کا معاملہ اللہ کے ایک دوسرے ہی قانون سے تعلق رکھتا ہے جس میں بیشمار دوسری مصلحتوں کے لحاظ سے کسی کو زیادہ دیا جاتا ہے اور کسی کو کم۔ یہ کوئی معیار نہیں ہے جس کے لحاظ سے انسانوں کے اخلاقی و معنوی حسن و قبح کا فیصلہ کیا جائے۔ انسانوں کے درمیان فرق مراتب کی اصل بنیاد اور ان کی سعادت و شقاوت کی اصل کسوٹی یہ ہے کہ کس نے فکر و عمل کی صحیح راہ اختیار کی اور کس نے غلط، کس نے عمدہ اوصاف کا اکتساب کیا اور کس نے برے اوصاف کا۔ مگر نادان لوگ اس کے بجائے یہ دیکھتے ہیں کہ کس کو دولت زیادہ ملی اور کس کو کم۔