Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 13. Ar-Ra'd · Ayah 5

  1. وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿5﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. تَعْجَبْتم تعجب کرو
    3. فَعَجَبٌتو عجب
    4. قَوْلُهُمْان کا کہنا
    5. ءَاِذَاکیا جب
    6. كُنَّاہوگئے ہم
    7. تُرٰبًامٹی
    8. ءَاِنَّاکیا ہم یقیناً
    9. لَفِيْ خَلْقٍزندگی پائیں گے
    10. جَدِيْدٍنئی
    11. اُولٰٓئِكَوہی
    12. الَّذِيْنَجو لوگ
    13. كَفَرُوْامنکر ہوئے
    14. بِرَبِّهِمْاپنے رب کے
    15. وَاُولٰٓئِكَاور وہی ہیں
    16. الْاَغْلٰلُطوق (جمع)
    17. فِيْٓمیں
    18. اَعْنَاقِهِمْان کی گردنیں
    19. وَاُولٰٓئِكَاور وہی ہیں
    20. اَصْحٰبُ النَّارِدوزخ والے
    21. هُمْوہ
    22. فِيْهَااس میں
    23. خٰلِدُوْنَہمیشہ رہیں گے
Translation · Tafheem-ul-Quran
اب اگر تمہیں تعجّب کرنا ہے تو تعجّب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ”جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سِروں سے پیدا کیے جائیں گے؟“ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ سے کُفر کیا ہے۔12 یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔13 یہ جہنّمی ہیں اورجہنّم میں ہمیشہ رہیں گے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الرَّعْد 12 یعنی ان کا آخرت سے انکار دراصل خدا سے اور اس کی قدرت اور حکمت سے انکار ہے۔ یہ صرف اتنا ہی نہیں کہتے کہ ہمارا مٹی میں مل جانے کے بعد دوبارہ پیدا ہونا غیر ممکن ہے، بلکہ ان کے اسی قول میں یہ خیال بھی پوشیدہ ہے کہ معاذاللہ وہ خدا عاجز دور ماندہ اور نادان و بےخرد ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے۔ سورة الرَّعْد 13 گردن میں طوق پڑا ہونا قیدی ہونے کی علامت ہے۔ ان لوگوں کی گردنوں میں طوق پڑے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنی جہالت کے، اپنی ہٹ دھرمی کے، اپنی خواہشات نفس کے، اور اپنے آباواجداد کی اندھی تقلید کے اسیر بنے ہوئے ہیں۔ یہ آزادانہ غور و فکر نہیں کرسکتے۔ انہیں ان کے تعصبات نے ایسا جکڑ رکھا ہے کہ یہ آخرت کو نہیں مان سکتے اگرچہ اس کا ماننا سراسر معقول ہے، اور انکار آخرت پر جمے ہوئے ہیں اگرچہ وہ سراسر نامعقول ہے۔