تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 21
وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ع﴿21﴾
- وَبَرَزُوْااور وہ حاضر ہونگے
- لِلّٰهِاللہ کے آگے
- جَمِيْعًاسب
- فَقَالَپھر کہیں گے
- الضُّعَفٰٓؤُاکمزور (جمع)
- لِلَّذِيْنَان لوگوں سے جو
- اسْتَكْبَرُوْٓابڑے بنتے تھے
- اِنَّا كُنَّابیشک ہم تھے
- لَكُمْتمہارے
- تَبَعًاتابع
- فَهَلْتو کیا
- اَنْتُمْتم
- مُّغْنُوْنَدفع کرتے ہو
- عَنَّاہم سے
- مِنْسے
- عَذَابِ اللّٰهِاللہ کا عذاب
- مِنْ شَيْءٍکسی قدر
- قَالُوْاوہ کہیں گے
- لَوْاگر
- هَدٰىنَاہمیں ہدایت کرتا
- اللّٰهُاللہ
- لَهَدَيْنٰكُمْالبتہ ہم ہدایت کرتے تمہیں
- سَوَآءٌبرابر
- عَلَيْنَآہم پر (لیے)
- اَجَزِعْنَآخواہ ہم گھبرائیں
- اَمْیا
- صَبَرْنَاہم صبر کریں
- مَا لَنَانہیں ہمارے لیے
- مِنْ مَّحِيْصٍکوئی چھٹکارا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنےبے نقاب ہوں گے28 تو اُس وقت ان میں جو دُنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے”دُنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کر سکتے ہو؟“ وہ جواب دیں گے”اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزَع فزَع کریں یا صبر، بہر حال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔29“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اِبْرٰهِیْم 28
برزوا کے معنی محض نکل کر سامنے آنے اور پیش ہونے ہی کے نہیں ہیں بلکہ اس میں ظاہر ہونے اور کھل جانے کا مفہوم بھی شامل ہے۔ اسی لیے ہم نے اس کا ترجمہ بےنقاب ہو کر سامنے آجانا کیا ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے تو بندے ہر وقت اپنے رب کے سامنے بےنقاب ہیں۔ مگر آخرت کی پیشی کے دن جب وہ سب کے سب اللہ کی عدالت میں حاضر ہوں گے تو انہیں خود بھی معلوم ہوگا کہ ہم اس احکم الحاکمین اور مالک یوم الدین کے سامنے بالکل بےنقاب ہیں، ہمارا کوئی کام بلکہ کوئی خیال اور دل کے گوشوں میں چھپا ہوا کوئی ارادہ تک اس سے مخفی نہیں ہے۔
سورة اِبْرٰهِیْم 29
یہ تنبیہ ہے ان سب لوگوں کے لیے جو دنیا میں آنکھیں بند کر کے دوسروں کے پیچھے چلتے ہیں یا اپنی کمزوری کو حجت بنا کر طاقتور ظالموں کی اطاعت کرتے ہیں۔ ان کو بتایا جا رہا ہے کہ آج جو تمہارے لیڈر اور پیشوا اور افسر اور حاکم بنے ہوئے ہیں، کل ان میں سے کوئی بھی تمہیں خدا کے عذاب سے ذرہ برابر بھی نہ بچا سکے گا۔ لہٰذا آج ہی سوچ لو کہ تم جس کے پیچھے چل رہے ہو یا جس کا حکم مان رہے ہو وہ خود کہاں جا رہا ہے اور تمہیں کہاں پہنچا کر چھوڑے گا۔