تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 35
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ﴿35﴾
- وَاِذْاور جب
- قَالَکہا
- اِبْرٰهِيْمُابراہیم
- رَبِّاے میرے رب
- اجْعَلْبنا دے
- هٰذَا الْبَلَدَیہ شہر
- اٰمِنًاامن کی جگہ
- وَّاجْنُبْنِيْاور مجھے دور رکھ
- وَبَنِيَّاور میری اولاد
- اَنْکہ
- نَّعْبُدَہم پرستش کریں
- الْاَصْنَامَبت (جمع)
Translation · Tafheem-ul-Quran
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے دُعا کی تھی 46کہ”پروردگار، اِس شہر47 کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اِبْرٰهِیْم 46
عام احسانات کا ذکر کرنے کے بعد اب ان خاص احسانات کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قریش پر کیے تھے اور اس کے ساتھ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ نے یہاں لا کر کن تمناؤں کے ساتھ تمہیں بسایا تھا، اس کی دعاؤں کے جواب میں کیسے کیسے احسانات ہم نے تم پر کیے، اور اب تم اپنے باپ کی تمناؤں اور اپنے رب کے احسانات کا جواب کن گمراہیوں اور بداعمالیوں سے دے رہے ہو۔
سورة اِبْرٰهِیْم 47
یعنی مکہ۔