Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 14. Ibrahim · Ayah 47

  1. فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ﴿47﴾

    1. فَلَا تَحْسَبَنَّپس تو ہرگز خیال نہ کر
    2. اللّٰهَاللہ
    3. مُخْلِفَخلاف کرے گا
    4. وَعْدِهٖاپنا وعدہ
    5. رُسُلَهٗاپنے رسول
    6. اِنَّبیشک
    7. اللّٰهَاللہ
    8. عَزِيْزٌزبردست
    9. ذُو انْتِقَامٍبدلہ لینے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس اے نبی ؐ ، تم ہر گز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسُولوں سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کرے گا۔56 اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة اِبْرٰهِیْم 56 اس جملے میں کلام کا رخ بظاہر نبی ﷺ کی طرف ہے، مگر دراصل سنانا آپ کے مخالفین کو مقصود ہے۔ انہیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اللہ نے پہلے بھی اپنے رسولوں سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے کیے اور ان کے مخالفیں کو نیچا دکھایا۔ اور اب جو وعدہ اپنے رسول محمد ﷺ سے کر رہا ہے اسے پورا کرے گا اور ان لوگوں کو تہس نہس کر دے گا جو اس کے مخالفت کر رہے ہیں۔