تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 15. Al-Hijr · Ayah 21
وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَآئِنُهٗ١٘ وَ مَا نُنَزِّلُهٗۤ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ﴿21﴾
- وَاِنْاور نہیں
- مِّنْ شَيْءٍکوئی چیز
- اِلَّامگر
- عِنْدَنَاہمارے پاس
- خَزَآئِنُهٗاس کے خزانے
- وَمَااور نہیں
- نُنَزِّلُهٗٓہم اس کو اتارتے
- اِلَّامگر
- بِقَدَرٍاندازہ سے
- مَّعْلُوْمٍمعلوم۔ مناسب
Translation · Tafheem-ul-Quran
کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں۔ 14
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْحِجْر 14
یہاں اس حقیقت پر متنبہ فرمایا کہ یہ معاملہ صرف نباتات ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ تمام موجودات کے معاملہ میں عام ہے۔ ہوا، پانی، روشنی، گرمی، سردی، جمادات، نباتات، حیوانات، غرض ہر چیز، ہر نوع، ہر جنس، اور ہر قوت و طاقت کے لیے ایک حد مقرر ہے جس پر وہ ٹھیری ہوئی ہے اور ایک مقدار ہے جس سے نہ وہ گھٹتی ہے نہ بڑھتی ہے۔ اسی تقدیر اور کمال درجہ کی حکیمانہ تقدیر ہی کا یہ کرشمہ ہے کہ زمین سے لے کر آسمانوں تک پورے نظام کائنات میں یہ توازن، یہ اعتدال، اور یہ تناسب نظر آرہا ہے۔ اگر یہ کائنات کا ایک اتفاقی حادثہ ہوتی، یا بہت سے خداؤں کی کاریگری و کارفرمائی کا نتیجہ ہوتی تو کس طرح ممکن تھا کہ بیشمار مختلف اشیاء اور قوتوں کے درمیان ایسا مکمل توازن و تناسب قائم ہوتا اور مسلسل قائم رہ سکتا ؟