تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 47
Tafseerنَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا﴿47﴾
- نَحْنُہم
- اَعْلَمُخوب جانتے ہیں
- بِمَاجس غرض سے
- يَسْتَمِعُوْنَوہ سنتے ہیں
- بِهٖٓاس کو
- اِذْ يَسْتَمِعُوْنَجب وہ کان لگاتے ہیں
- اِلَيْكَتیری طرف
- وَاِذْاور جب
- هُمْوہ
- نَجْوٰٓىسرگوشی کرتے ہیں
- اِذْ يَقُوْلُجب کہتے ہیں
- الظّٰلِمُوْنَظالم (جمع)
- اِنْنہیں
- تَتَّبِعُوْنَتم پیروی کرتے
- اِلَّامگر
- رَجُلًاایک آدمی
- مَّسْحُوْرًاسحر زدہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں تو دراصل کیا سُنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں۔ یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جارہے ہو53
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 53
یہ اشارہ ہے ان باتوں کی طرف جو کفار مکہ کے سردار آپس میں کیا کرتے تھے۔ ان کا حال یہ تھا کہ چھپ چھپ کر قرآن سنتے اور پھر آپس میں مشورے کرتے تھے کہ اس کا توڑ کیا ہونا چاہییے۔ بسا اوقات انہیں اپنے ہی آدمیوں میں سے کسی پر یہ شبہہ بھی ہوجاتا تھا کہ شاید یہ شخص قرآن سن کر کچھ متاثر ہوگیا ہے۔ اس لیے وہ سب مل کر اس کو سمجھاتے تھے کہ اجی، یہ کس کے پھیر میں آ رہے ہو، یہ شخص تو سحرزدہ ہے، یعنی کسی دشمن نے اس پر جادو کردیا ہے اس لیے بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔