تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 67
Tafseerوَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا﴿67﴾
- وَاِذَااور جب
- مَسَّكُمُتمہیں چھوتی (پہنچتی) ہے
- الضُّرُّتکلیف
- فِي الْبَحْرِدریا میں
- ضَلَّگم ہوجاتے ہیں
- مَنْجو
- تَدْعُوْنَتم پکارتے تھے
- اِلَّآ اِيَّاهُاس کے سوا
- فَلَمَّاپھر جب
- نَجّٰىكُمْوہ تمہیں بچا لایا
- اِلَى الْبَرّخشکی کی طرف
- اَعْرَضْتُمْتم پھرجاتے ہیں
- وَكَانَاور ہے
- الْاِنْسَانُانسان
- كَفُوْرًابڑا ناشکرا
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دُوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گُم ہوجاتے ہیں84، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اُس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 84
یعنی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہاری اصلی فطرت ایک خدا کے سوا کسی رب کو نہیں جانتی، اور تمہارے اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ شعور موجود ہے کہ نفع و نقصان کے حقیقی اختیارات کا مالک بس وہی ایک ہے۔ ورنہ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ جو اصل وقت دستگیری کا ہے اس وقت تم کو ایک خدا کے سوا کوئی دوسرا دستگیر نہیں سوجھتا ؟