Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 73

  1. وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا﴿73﴾

    1. وَاِنْاور تحقیق
    2. كَادُوْاوہ قریب تھا
    3. لَيَفْتِنُوْنَكَکہ تمہیں بچلا دیں
    4. عَنِسے
    5. الَّذِيْٓوہ لوگ جو
    6. اَوْحَيْنَآہم نے وحی کی
    7. اِلَيْكَتمہاری طرف
    8. لِتَفْتَرِيَتاکہ تم جھوٹ باندھو
    9. عَلَيْنَاہم پر
    10. غَيْرَهٗاس کے سوا
    11. وَاِذًااور اس صورت میں
    12. لَّاتَّخَذُوْكَالبتہ وہ تمہیں بنا لیتے
    13. خَلِيْلًادوست
Translation · Tafheem-ul-Quran
اے محمد ؐ ، ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔ 87اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنالیتے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 87 یہ ان حالات کی طرف اشارہ ہے جو پچھلے دس بارہ سال سے نبی ﷺ کو مکہ میں پیش آرہے تھے۔ کفار مکہ اس بات کے درپے تھے کہ جس طرح بھی ہو آپ کو توحید کی اس دعوت سے ہٹا دیں جسے آپ پیش کر رہے تھے اور کسی نہ کسی طرح آپ کو مجبور کردیں کہ آپ ان کے شرک اور رسوم جاہلیت سے کچھ نہ کچھ مصالحت کرلیں۔ اس غرض کے لیے انہوں نے آپ کو فتنے میں ڈالنے کی ہر کوشش کی۔ فریب بھی دیے، لالچ بھی دلائے، دھمکیاں بھی دیں، جھوٹے پروپگنڈے کا طوفان بھی اٹھایا، ظلم و ستم بھی کیا، معاشی دباؤ بھی ڈالا، معاشرتی مقاطعہ بھی کیا، اور وہ سب کچھ کر ڈالا جو کسی انسان کے عزم کو شکست دینے کے لیے کیا جاسکتا تھا۔