تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 17. Al-Israa · Ayah 8
عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا﴿8﴾
- عَسٰيامید ہے
- رَبُّكُمْتمہارا رب
- اَنْکہ
- يَّرْحَمَكُمْوہ تم پر رحم کرے
- وَاِنْاور اگر
- عُدْتُّمْتم پھر (وہی) کرو گے
- عُدْنَاہم وہی کرینگے
- وَجَعَلْنَااور ہم نے بنایا
- جَهَنَّمَجہنم
- لِلْكٰفِرِيْنَکافروں کے لیے
- حَصِيْرًاقید خانہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہو سکتا ہے کہ اب تمہارا ربّ تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اور کافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم ے جہنّم کو قید خانہ بنا رکھا ہے۔10
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 10
اس سے یہ شبہہ نہ ہونا چاہیے کہ اس پوری تقریر کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں۔ مخاطب تو کفار مکہ ہی ہیں، مگر چونکہ ان کو متنبہ کرنے کے لیے یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ کے چند عبرتناک شواہد پیش کیے گئے تھے، اس لیے بطور ایک جملہ معترضہ کے یہ فقرے بنی اسرائیل کو خطاب کر کے فرما دیا گیا تاکہ ان اصلاحی تقریروں کے لیے تمہید کا کام دے جن کی نوبت ایک ہی سال بعد مدینے میں آنے والی تھی۔