تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 45
Tafseerوَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا﴿45﴾
- وَاضْرِبْاور بیان کردیں
- لَهُمْان کے لیے
- مَّثَلَمثال
- الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- كَمَآءٍجیسے پانی
- اَنْزَلْنٰهُہم نے اس کو اتارا
- مِنَسے
- السَّمَآءِآسمان
- فَاخْتَلَطَپس مل جل گیا
- بِهٖاس سے ذریعہ
- نَبَاتُ الْاَرْضِزمین کی نباتات (سبزہ)
- فَاَصْبَحَوہ پھر ہوگیا
- هَشِيْمًاچورا چورا
- تَذْرُوْهُاڑاتی ہے اس کو
- الرِّيٰحُہوا (جمع)
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ
- عَلٰي كُلِّ شَيْءٍہر شے پر
- مُّقْتَدِرًابڑی قدرت رکھنے والا
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور اے نبی ؐ ، اِنہیں حیاتِ دُنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاوٴ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خُوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اُڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 41
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْكَهْف 41
یعنی وہ زندگی بھی بخشتا ہے اور موت بھی۔ وہ عروج بھی عطا کرتا ہے اور زوال بھی۔ اس کے حکم سے بہار آتی ہے تو خزاں بھی آجاتی ہے۔ اگر آج تمہیں عیش اور خوشحالی میسر ہے تو اس غرے میں نہ رہو کہ یہ حالت لازوال ہے۔ جس خدا کے حکم سے یہ کچھ تمہیں ملا ہے اسی کے حکم سے سب کچھ تم سے چھن بھی سکتا ہے۔