تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 18. Al-Kahf · Ayah 86
حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا﴿86﴾
- حَتّٰٓيیہانتک کہ
- اِذَا بَلَغَجب وہ پہنچا
- مَغْرِبَغروب ہونے کا مقام
- الشَّمْسِسورج
- وَجَدَهَااس نے پایا اسے
- تَغْرُبُڈوب رہا ہے
- فِيْمیں
- عَيْنٍچشمہ۔ ندی
- حَمِئَةٍدلدل
- وَّوَجَدَاور اس نے پایا
- عِنْدَهَااس کے نزدیک
- قَوْمًاایک قوم
- قُلْنَاہم نے کہا
- يٰذَا الْقَرْنَيْنِاے ذوالقرنین
- اِمَّآیا چاہے
- اَنْیہ کہ
- تُعَذِّبَتو سزا دے
- وَاِمَّآاور یا چاہے
- اَنْیہ کہ
- تَتَّخِذَتو اختیار کرے
- فِيْهِمْان میں سے
- حُسْنًاکوئی بھلائی
Translation · Tafheem-ul-Quran
حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتاب کی حَد تک پہنچ گیا 63 تو اس نے سُورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا 64 اور وہاں اُسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا”اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ اِن کے ساتھ نیک رویّہ اختیار کرے۔“ 65
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْكَهْف 63
غروب آفتاب کی حد سے مراد، جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے اقصٰی ما یسلک فیہ من الارض میں ناحیۃ المغرب ہے نہ کہ آفتاب غروب ہونے کی جگہ۔ مراد یہ ہے کہ وہ مغرب کی جانب ملک پر ملک فتح کرتا ہوا خشکی کے آخری سرے تک پہنچ گیا جس کے آگے سمندر تھا۔
سورة الْكَهْف 64
یعنی وہاں غروب آفتاب کے وقت ایسا محسوس ہوتا تھا کہ سورج سمندر کے سیاہی مائل گدلے پانی میں ڈوب رہا ہے۔ اگر فی الواقع ذو القرنین سے مراد خورس ہی ہو تو یہ ایشیائے کوچک کا مغربی ساحل ہوگا جہاں بحرایجین چھوٹی چھوٹی خلیجوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس قیاس کی تائید یہ بات بھی کرتی ہے کہ قرآن یہاں بحر کے بجائے عین کا لفظ استعمال کرتا ہے جو سمندر کے بجائے جھیل یا خلیج ہی پر زیادہ صحت کے ساتھ بولا جاسکتا ہے۔
سورة الْكَهْف 65
ضروری نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات براہ راست وحی یا الہام کے ذریعہ ہی سے ذوالقرنین کو خطاب کر کے فرمائی ہو، حتیٰ کہ اس سے ذوالقرنین کا نبی یا محدث ہونا لازم آئے۔ بلکہ یہ ارشاد زبان حال کے واسطے سے بھی ہوسکتا ہے، اور یہی قرین قیاس ہے۔ ذو القرنین اس وقت فتح یاب ہو کر اس علاقے پر قابض ہوا تھا۔ مفتوح قوم اس کے بس میں تھی۔ اللہ نے اس صورت حال میں اس کے ضمیر کے سامنے یہ سوال رکھ دیا کہ یہ تیرے امتحان کا وقت ہے۔ یہ قوم تیرے آگے بےبس ہے۔ تو ظلم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، اور شرافت کا سلوک کرنا چاہے تو یہ بھی تیرے اختیار میں ہے۔