Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 19. Maryam · Ayah 26

Tafseer
  1. فَكُلِیْ وَ اشْرَبِیْ وَ قَرِّیْ عَیْنًا١ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا١ۙ فَقُوْلِیْۤ اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاۚ﴿26﴾

    1. فَكُلِيْتو کھا
    2. وَاشْرَبِيْاور پی
    3. وَقَرِّيْاور ٹھنڈی کر
    4. عَيْنًاآنکھیں
    5. فَاِمَّا تَرَيِنَّپھر اگر تو دیکھے
    6. مِنَسے
    7. الْبَشَرِآدمی
    8. اَحَدًاکوئی
    9. فَقُوْلِيْٓتو کہدے
    10. اِنِّىْ نَذَرْتُمیں نے نذر مانی ہے
    11. لِلرَّحْمٰنِرحمن کے لیے
    12. صَوْمًاروزہ
    13. فَلَنْ اُكَلِّمَپس میں ہرگز کلام نہ کرونگی
    14. الْيَوْمَآج
    15. اِنْسِيًّاکسی آدمی
Translation · Tafheem-ul-Quran
پس تُو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی۔“ 18
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة مَرْیَم 18 مطلب یہ ہے کہ بچے کے معاملے میں تجھے کچھ بولنے کی ضرورت نہیں۔ اس کی پیدائش پر جو کوئی معترض ہو اسکا جواب اب ہمارے ذمے ہے (واضح رہے کہ بنی اسرائیل میں چپ کر روزہ رکھنے کا طریقہ رائج تھا) یہ الفاظ بھی صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت مریم کو اصل پریشانی کیا تھی۔ نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ شادی شدہ لڑکی کے ہاں پہلو نٹی کا بچہ اگر دنیا کے معروف طریقہ پر پیدا ہو تو آخر اسے چپ کا روزہ رکھنے کی کیا ضرورت پیش آسکتی ہے ؟