Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 245

  1. مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿245﴾

    1. مَنْکون
    2. ذَاوہ
    3. الَّذِيْجو کہ
    4. يُقْرِضُقرض دے
    5. اللّٰهَاللہ
    6. قَرْضًاقرض
    7. حَسَنًااچھا
    8. فَيُضٰعِفَهٗپس وہ اسے بڑھا دے
    9. لَهٗٓاس کے لیے
    10. اَضْعَافًاکئی گنا
    11. كَثِيْرَةًزیادہ
    12. وَاللّٰهُاور اللہ
    13. يَقْبِضُتنگی کرتا ہے
    14. وَيَبْصُۜطُاور فراخی کرتا ہے
    15. وَاِلَيْهِاور اس کی طرف
    16. تُرْجَعُوْنَتم لوٹائے جاؤگے
Translation · Tafheem-ul-Quran
تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض ِ حَسَن دے267 تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھا نا بھی، اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 267 ”قرض حسن“ کا لفظی ترجمہ ”اچھا قرض“ ہے اور اس سے مراد ایسا قرض ہے، جو خالص نیکی کے جذبے سے بےغرضانہ کسی کو دیا جائے۔ اس طرح جو مال راہ خدا میں خرچ کیا جائے، اسے اللہ تعالیٰ اپنے ذمے قرض قرار دیتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ میں نہ صرف اصل ادا کر دوں گا، بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ دوں گا۔ البتہ شرط یہ ہے کہ وہ ہو قرض حسن، یعنی اپنی کسی نفسانی غرض کے لیے نہ دیا جائے، بلکہ محض اللہ کی خاطر ان کاموں میں صرف کیا جائے، جن کو وہ پسند کرتا ہے۔