Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 263

  1. قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ﴿263﴾

    1. قَوْلٌبات
    2. مَّعْرُوْفٌاچھی
    3. وَّمَغْفِرَةٌاور در گزر
    4. خَيْرٌبہتر
    5. مِّنْسے
    6. صَدَقَةٍخیرات
    7. يَّتْبَعُهَآاس کے بعد ہو
    8. اَذًىایذا دینا (ستانا)
    9. وَاللّٰهُاور اللہ
    10. غَنِىٌّبےنیاز
    11. حَلِيْمٌبرد بار
Translation · Tafheem-ul-Quran
ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھےدکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور برد باری اس کی صفت302 ہے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 302 اس ایک فقرے میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تمہاری خیرات کا حاجت مند نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ چونکہ خود بردبار ہے، اس لیے اسے پسند بھی وہی لوگ ہیں، جو چھچورے اور کم ظرف نہ ہوں، بلکہ فراخ حوصلہ اور بردبار ہوں۔ جو خدا تم پر زندگی کے اسباب و وسائل کا بےحساب فیضان کر رہا ہے اور تمہارے قصوروں کے باوجود تمہیں بار بار بخشتا ہے، وہ ایسے لوگوں کو کیونکر پسند کرسکتا ہے، جو کسی غریب کو ایک روٹی کھلادیں، تو احسان جتا جتا کر اس کی عزت نفس کو خاک میں ملا دیں۔ اسی بنا پر حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے روز شرف ہم کلامی اور نظر عنایت سے محروم رکھے گا، جو اپنے عطیے پر احسان جتاتا ہو۔