Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 2. Al-Baqara · Ayah 285

  1. اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ﴿285﴾

    1. اٰمَنَمان لیا
    2. الرَّسُوْلُرسول
    3. بِمَآجو کچھ
    4. اُنْزِلَاترا
    5. اِلَيْهِاس کی طرف
    6. مِنْسے
    7. رَّبِّهٖاس کا رب
    8. وَالْمُؤْمِنُوْنَاور مومن (جمع)
    9. كُلٌّسب
    10. اٰمَنَایمان لائے
    11. بِاللّٰهِاللہ پر
    12. وَمَلٰٓئِكَتِهٖاور اس کے فرشتے
    13. وَكُتُبِهٖاور اس کی کتابیں
    14. وَرُسُلِهٖاور اس کے رسول
    15. لَا نُفَرِّقُنہیں ہم فرق کرتے
    16. بَيْنَدرمیان
    17. اَحَدٍکسی ایک
    18. مِّنْ رُّسُلِهٖاس کے رسول کے
    19. وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
    20. سَمِعْنَاہم نے سنا
    21. وَاَطَعْنَااور ہم نے اطاعت کی
    22. غُفْرَانَكَتیری بخشش
    23. رَبَّنَاہمارے رب
    24. وَاِلَيْكَاور تیری طرف
    25. الْمَصِيْرُلوٹ کر جانا
Translation · Tafheem-ul-Quran
رسُول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے ربّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسُول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک !ہم تجھ سے خطابخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔337“
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة الْبَقَرَة 337 اس آیت میں تفصیلات سے قطع نظر کر کے اسلام کے عقائد اور اسلامی طرز عمل کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے اور وہ یہ ہے اللہ کو، اس کے فرشتوں کو، اور اس کی کتابوں کو ماننا۔ اس کے تمام رسولوں کو تسلیم کرنا بغیر اس کے کہ ان کے درمیان فرق کیا جائے (یعنی کسی کو مانا جائے اور کسی کو نہ مانا جائے)۔ اور اس امر کو تسلیم کرنا کہ آخر کار ہمیں اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ یہ پانچ امور اسلام کے بنیادی عقائد ہیں۔ ان عقائد کو قبول کرنے کے بعد ایک مسلمان کے لیے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو حکم پہنچے، اسے وہ بسر و چشم قبول کرے، اس کی اطاعت کرے، اور اپنے حسن عمل پر غرہ نہ کرے، بلکہ اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کرتا رہے۔