تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 10
اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى﴿10﴾
- اِذْ رَاٰجب اس نے دیکھی
- نَارًاآگ
- فَقَالَتو کہا
- لِاَهْلِهِاپنے گھروالوں کو
- امْكُثُوْٓاتم ٹھہرو
- اِنِّىْٓبیشک میں نے
- اٰنَسْتُدیکھی ہے
- نَارًاآگ
- لَّعَلِّيْٓشاید میں
- اٰتِيْكُمْتمہارے پاس لاؤں
- مِّنْهَااس سے
- بِقَبَسٍچنگاری
- اَوْیا
- اَجِدُمیں پاؤں
- عَلَي النَّارِآگ پر۔ کے
- هُدًىراستہ
Translation · Tafheem-ul-Quran
جب کہ اُس نے ایک آگ دیکھی 5 اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ”ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آوٴں، یا اس آگ پر مجھے(راستے کے متعلق)کوئی رہنمائی مِل جائے۔“ 6
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 5
یہ اس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ چند سال مدین میں جلا وطنی کی زندگی گزار نے کے بعد اپنی بیوی کو (جن سے مدین ہی میں شادی ہوئی تھی) لے کر مصر کی طرف واپس جا رہے تھے۔ اس سے پہلے کی سرگزشت سورة قَصص میں بیان ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا تھا اور اس پر انہیں اپنی گرفتاری کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا تو وہ مصر سے بھاگ کر مدین میں پناہ گزیں ہوئے تھے۔