Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 101

  1. خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ﴿101﴾

    1. خٰلِدِيْنَوہ ہمیشہ رہیں گے
    2. فِيْهِاس میں
    3. وَسَآءَاور برا ہے
    4. لَهُمْان کے لیے
    5. يَوْمَ الْقِيٰمَةِقیامت کے دن
    6. حِمْلًابوجھھ
Translation · Tafheem-ul-Quran
اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے،اور قیامت کے دن اُن کےلیے (اِس جرم کی ذمّہ داری کا بوجھ)بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا، 77
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 77 اس میں پہلی بات تو یہ بتائی گئی کہ جو شخص اس درس نصیحت، یعنی قرآن سے منہ موڑے گا اور اس کی ہدایت و رہنمائی قبول کرنے سے انکار کرے گا، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، محمد ﷺ اور ان کے بھیجنے والے خدا کا کچھ نہ بگاڑے گا۔ اس کی یہ حماقت دراصل اس کی خود اپنے ساتھ دشمنی ہوگی۔ دوسری بات یہ بتائی گئی کہ کوئی شخص، جس کو قرآن کی یہ نصیحت پہنچے اور پھر وہ اسے قبول کرنے سے پہلو تہی کرے، آخرت میں سزا پانے سے بچ نہیں سکتا۔ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ کسی قوم، کسی ملک، کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ جب تک یہ قرآن دنیا میں موجود ہے، جہاں جہاں، جس جس ملک اور قوم کے، جس شخص کو بھی یہ پہنچے گا، اس کے لیے دو ہی راستے کھلے ہوں گے۔ تیسرا کوئی راستہ نہ ہوگا "۔ یا تو اس کو مانے اور اس کی پیروی اختیار کرے۔ یا اس کو نہ مانے اور اس کی پیروی سے منہ موڑ لے۔ پہلا راستہ اختیار کرنے والے کا انجام آگے آ رہا ہے۔ اور دوسرا راستہ اختیار کرنے والے کا انجام یہ ہے جو اس آیت میں بتادیا گیا ہے۔