Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 12

  1. اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ﴿12﴾

    1. اِنِّىْٓبیشک میں
    2. اَنَامیں
    3. رَبُّكَتمہارا رب
    4. فَاخْلَعْسو اتار لو
    5. نَعْلَيْكَاپنی جوتیاں
    6. اِنَّكَبیشک تم
    7. بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِمیدان پاک
    8. طُوًىطوی
Translation · Tafheem-ul-Quran
میں ہی تیرا ربّ ہوں، جُوتیاں اُتار دے۔ 7 تُو وادی ِ مقدس طُویٰ میں ہے۔ 8
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 7 غالباً اسی واقعہ کی وجہ سے یہودیوں میں یہ شرعی مسئلہ بن گیا کہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے فرمایا خالفوا الیھود فانھم لا یصلّون فی فعالہم ولا خفافہم، " یہودیوں کے خلاف عمل کرو۔ کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے " (ابو داؤد)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضرور جوتے ہی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے، اس لیے دونوں طرح عمل کرو۔ ابو داؤد میں عمْرو بن عاص کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ مسند احمد اور ابو داؤد میں ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے۔ اگر کوئی گندگی لگی ہو تو زمین سے رگڑ کر صاف کرلے اور انہی جوتوں کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے " ابوہریرہ کی روایت میں حضور کے یہ الفاظ ہیں " اگر تم میں سے کسی نے اپنے جوتے سے گندگی کو پامال کیا ہو تو مٹی اس کو پاک کردینے کے لیے کافی ہے "۔ اور حضرت ام سَلَمہ کی روایت میں ہے یطھرہ مابعدہ، یعنی " ایک جگہ گندگی لگی ہوگی تو دوسری جگہ جاتے جاتے خود زمین ہی اس کو پاک کر دے گی "۔ ان کثیر التعداد روایات کی بنا پر امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام اوزاعی اور اسحاق بن راھَوَیہ وغیرہ فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ جوتا ہر حال میں زمین کی مٹی سے پاک ہوجاتا ہے۔ ایک ایک قول امام احمد اور امام شافعی کا بھی اس کی تائید میں ہے۔ مگر امام شافعی کا مشہور قول اس کے خلاف ہے۔ غالباً وہ جوتا پہن کر نماز پڑھنے کو ادب کے خلاف سمجھ کر منع کرتے ہیں، اگرچہ سمجھا یہی گیا ہے کہ ان کے نزدیک جوتا مٹی پر رگڑنے سے پاک نہیں ہوتا۔ (اس سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسجد نبوی میں چٹائی تک کا فرش نہ تھا، بلکہ کنکریاں بچھی ہوئی تھیں۔ لہٰذا ان احادیث سے استدلال کر کے اگر کوئی شخص آج کی مسجدوں کے فرش پر جوتے لے جانا چاہے تو یہ صحیح نہ ہوگا۔ البتہ گھاس پر یا کھلے میدان میں جوتے پہنے پہنے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو میدان میں نماز جنازہ پڑھتے وقت بھی جوتے اتارنے پر اصرار کرتے ہیں، وہ در اصل احکام سے ناواقف ہیں)۔ سورة طٰهٰ 8 عام خیال یہ ہے کہ " طویٰ " اس وادی کا نام تھا۔ مگر بعض مفسرین نے " وادی مقدس طویٰ " کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ " وہ وادی جو ایک ساعت کے لیے مقدس کردی گئی ہے۔