تفہیم القرآن
Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 49
Tafseerقَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى﴿49﴾
- قَالَاس نے کہا
- فَمَنْپس کون
- رَّبُّكُمَاتمہارا رب
- يٰمُوْسٰىاے موسیٰ
Translation · Tafheem-ul-Quran
فرعون 20 نے کہا”اچھا، تو پھر تم دونوں کا ربّ کو ن ہے اے موسیٰ؟“ 21
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 20
یہاں قصے کی ان تفصیلات کو چھوڑ دیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کس طرح فرعون کے پاس پہنچے اور کس طرح اپنی دعوت اس کے سامنے پیش کی۔ یہ تفصیلات سورة اعراف رکوع 13 میں گزر چکی ہیں اور آگے سورة شعراء رکوع 2۔ 3، سورة قصص رکوع 4، اور سورة نازعات رکوع 1 میں آنے والی ہیں۔
فرعون کے متعلق ضروری معلومات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 86۔
سورة طٰهٰ 21
دونوں بھائیوں میں سے اصل صاحب دعوت چونکہ موسیٰ ؑ تھے اس لیے فرعون نے انہی کو مخاطب کیا۔ اور ہوسکتا ہے کہ خطاب کا رخ ان کی طرف رکھنے سے اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ وہ حضرت ہارون کی فصاحت و بلاغت کو میدان میں آنے کا موقع نہ دینا چاہتا ہو اور خطابت کے پہلو میں حضرت موسیٰ کے ضعف سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو جس کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے،
فرعون کے اس سوال کا منشا یہ تھا کہ تم دونوں کسے رب بنا بیٹھے ہو، مصر اور اہل مصر کا رب تو میں ہوں۔ سورة نازعات میں اس کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اَ نَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی، " اے اہل مصر، تمہارا رب اعلیٰ میں ہوں "۔ سورة زخرف میں وہ بھرے دربار کو مخاطب کر کے کہتا ہے یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہِ الْاَنْھَارُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ، " اے قوم، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں " ؟ (آیت۔ 51)۔ سورة قصص میں وہ اپنے درباریوں کے سامنے یوں بنکارتا ہے یٰٓاَیُّھَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ، فَاَوْقِدْلِیْ یَا ھَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحاً لَعَلِّی اَطَّلِعُ الیٰ اِلٰہِ مُوْسٰی، " اے سرداران قوم، میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور بھی الٰہ ہے، اے ہامان، ذرا اینٹیں پکوا اور ایک بلند عمارت میرے لیے تیار کرا تاکہ میں ذرا اوپر چڑھ کر دیکھوں تو سہی کہ یہ موسیٰ کسے الٰہ بنا رہا ہے " (آیت 38)۔ سورة شعراء میں وہ حضرت موسیٰ کو ڈانٹ کر کہتا ہے لَئِنِ اتَّخَذْ تَ الٰھاً غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ، " اگر تو نے میرے سوا کسی کو الٰہ بنایا تو یاد رکھ کہ تجھے جیل بھیج دوں گا " (آیت 29)۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرعون اپنی قوم کا واحد معبود تھا اور وہاں اس کے سوا کسی کی پرستش نہ ہوتی تھی۔ یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ فرعون خود سورج دیوتا (رع یا راع) کے اوتار کی حیثیت سے بادشاہی کا استحقاق جتاتا تھا، اور یہ بات بھی مصر کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس قوم کے مذہب میں بہت سے دیوتاؤں اور دیویوں کی عبادت ہوتی تھی۔ اس لیے فرعون کا دعویٰ " واحد مرکز پرستش " ہونے کا نہ تھا، بلکہ وہ عملاً مصر کی اور نظریے کے اعتبار سے دراصل پوری نوع انسان کی سیاسی ربوبیت و خداوندی کا مدعی تھا اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ اس کے اوپر کوئی دوسری ہستی فرمانروا ہو جس کا نمائندہ آ کر اسے ایک حکم دے اور اس حکم کی اطاعت کا مطالبہ اس سے کرے۔ بعض لوگوں کو اس کی لن ترانیوں سے یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا اور خود خدا ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ مگر یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ وہ عالم بالا پر کسی اور کی حکمرانی مانتا تھا۔ سورة المؤمن آیات 28 تا 34 اور سورة زخرف آیت 53 کو غور سے دیکھیے۔ یہ آیتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی ہستی سے اس کو انکار نہ تھا۔ البتہ جس چیز کو ماننے کے لیے وہ تیار نہ تھا وہ یہ تھی کہ اس کی سیاسی خدائی میں اللہ کا کوئی دخل ہو اور اللہ کا کوئی رسول آ کر اس پر حکم چلائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، القصص، حاشیہ 53)۔