Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 20. Taa-Haa · Ayah 51

Tafseer
  1. قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى﴿51﴾

    1. قَالَاس نے کہا
    2. فَمَاپھر کیا
    3. بَالُحال
    4. الْقُرُوْنِجماعتیں
    5. الْاُوْلٰىپہلی
Translation · Tafheem-ul-Quran
فرعون بولا”اور پہلے جو نسلیں گزر چکیں ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی؟“ 24
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة طٰهٰ 24 یعنی اگر بات یہی ہے کہ جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی اور زندگی میں کام کرنے کا راستہ بتایا اس کے سوا کوئی دوسرا رب نہیں ہے، تو یہ ہم سب کے باپ دادا جو صدہا برس سے نسل در نسل دوسرے ارباب کی بندگی کرتے چلے آ رہے ہیں، ان کی تمہارے نزدیک کیا پوزیشن ہے ؟ کیا وہ سب گمراہ تھے ؟ کیا وہ سب عذاب کے مستحق تھے ؟ کیا ان سب کی عقلیں ماری گئی تھیں ؟ یہ تھا فرعون کے پاس حضرت موسیٰ کی اس دلیل کا جواب۔ ہوسکتا ہے کہ یہ جواب اس نے بر بنائے جہالت دیا ہو اور ہوسکتا ہے کہ بربنائے شرارت۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں دونوں باتیں شامل ہوں، یعنی وہ خود بھی اس بات پر جھلا گیا ہو کہ اس مذہب سے ہمارے تمام بزرگوں کی گمراہی لازم آتی ہے، اور ساتھ ساتھ اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ اپنے اہل دربار اور عام اہل مصر کے دلوں میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے خلاف ایک تعصب بھڑکا دے۔ اہل حق کی تبلیغ کے خلاف یہ ہتھکنڈا ہمیشہ استعمال کیا جاتا رہا ہے اور جاہلوں کو مشتعل کرنے کے لیے بڑا مؤثر ثابت ہوا ہے۔ خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ قرآن کی یہ آیات نازل ہوئی ہیں، مکہ میں نبی ﷺ کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے سب سے زیادہ اسی ہتھکنڈے سے کام لیا جا رہا تھا، اس لیے حضرت موسیٰ کے مقابلے میں فرعون کی اس مکاری کا ذکر یہاں بالکل بر محل تھا۔